پرانے زمانے میں پریگننسی ٹیسٹ کیسے کیا جاتا تھا

پریگننسی ٹیسٹ

آج کل حمل کا پتہ لگانے کے دو طریقے ہیں ایک پیشاب میں موجود ہارمون کی شناخت کے ذریعے اور دوسرا خون کے ذریعے.ہارمون کی شناخت کو ہوم کٹ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے، جو پیشاب میں موجود ایک ہارمون کو شناخت کر کے بتا دیتی ہیں کہ خاتون حاملہ ہیں یا نہیں۔
تاہم ماضی میں بھی یہ جاننا اتنا مشکل نہ تھا اگرچہ اس وقت جدید سائنسی الات اور میڈیکل کی سہولیات اس طرح سے نہیں تھیں جس طرح سے آج ہیں لیکن اس وقت کچھ ایسے طریقے تھےجن کے رزلٹ بہت شاندار تھے.
چھاتیاں ڈھلک جانا:
قدیم زمانے میں خواتین کی جسمانی تبدیلی سےاندازہ لگایا جاتا تھا کہ حمل ٹھہر چکا ہے جیسا کہ چھاتیاں ڈھلک جانا بھی حاملہ ہونے کی نشانی سمجھا جاتا تھا ۔اس کی وجہ یہ گمان کیا جاتا تھا حمل ٹھہر جانے کے بعد خاتون کا خون چھاتیوں کی جانب منتقل ہوتا ہے۔
شراب اور شہد:
سونے سے پہلے شراب اور شہد کی آمیزش والا پانی پیا جائے اور اگر خاتون حاملہ ہو گی تو اس کے پیٹ میں درد ہو گا۔
گندم یا جو کے بیج پر پیشاب:
گندم یا جو کے بیج پر کئی دن تک پیشاب کرنا ہوتا تھا۔ اگر جو کے دانے سے پودا پھوٹ پڑتا تو اس کا مطلب تھا کہ لڑکا ہو گا لیکن اگر گندم پہلے پھوٹتی تو پھر لڑکی۔اگر دونوں میں سے ایک بھی نہ ہوتا تو اس کا مطلب ہوتا کہ خاتون حاملہ نہیں ہے۔
نوکیلے پتوں والا پودا:
ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ اگر رات بھر اس پتے کو اپنے پیشاب میں بھگو کے رکھے اور صبح کے وقت اس پر سرخ دھبے نمودار ہو جائیں تو یہ اس عورت کے حاملہ ہونے کا ایک اشارہ سمجھا جاتا تھا۔
ایک اور طریقہ پیشاب کو ابالنا تھا۔ اس دوران اگر سفید لکیریں ظاہر ہوں توسمجھا جاتا تھا کہ عورت حاملہ ہے۔
اگر کسی عورت کے پیشاب کو چند دنوں کے لیے ایک سیل بند ڈبے میں رکھا جائے تو اس کے اندر ’مخصوص جاندار چیزیں‘ دیکھی جا سکتی توسمجھا جاتا تھا کہ عورت حاملہ ہے۔

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں