گرم یا نیم گرم پانی پینے کے فوائد کو روایتی چینی طب اور آیوروید میں ہزاروں برسوں سے بیان کیا گیا ہے لیکن اس سال کے شروع میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اب یہ پرانی عادت پوری دنیا کے لوگوں تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں زیادہ تر نوجوانوں کو دکھایا گیا ہے کہ وہ اپنے دن کا آغاز گرم پانی پینے، گرماگرم ناشتہ کرنے اور ورزش سے کرتے ہیں۔
چین میں ایک بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ ’چی‘ (Qi) نامی توانائی، جسم میں بہتی ہے اور جب توانائی کا یہ بہاؤ مسدود یا غیرمتوازن ہو جاتا ہے تو انسان بیمار ہو جاتا ہے۔
نیم گرم پانی جس کا درجہ حرارت 40 سے 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہو، پینے سے ’چی‘ میں اضافہ ہوتا ہے اور جسم میں اس کا توازن برقرار رہتا ہے جس کا نتیجہ صحت میں بہتری اور طویل العمری کی شکل میں نکلتا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) میں گلوبل ٹریڈیشنل میڈیسن سینٹر کی عبوری ڈائریکٹر ڈاکٹر شیاما کروولا کہتی ہیں کہ یورپ میں آبادی پر مبنی مطالعات بھی کیے گئے ہیں۔ جرمنی میں ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 70 فیصد یا اس سے زیادہ لوگ روایتی ادویات کی کسی نہ کسی شکل کو استعمال کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ چین اور انڈیا جیسے کچھ ممالک میں یہ تعداد 90 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
ایک امریکی تحقیق کے مطابق ڈاکٹروں اور ہسپتالوں پر اعتماد 2020 میں 70 فیصد سے کم ہو کر 2024 تک تقریباً 40 فیصد رہ گیا۔











