سیلاب

درمیانے اور اونچے درجے کا سیلاب کیا ہوتا ہے

درمیانے اور اونچے درجے کا سیلاب پانی کے بہاؤ یا دریا کے پانی کی سطح کے بڑھنے کی شدت کے لحاظ سے بیان کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں سیلاب کا انتظام نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور دیگر اداروں کے ذریعے کیا جاتا ہے، ان کی تعریف عام طور پر درج ذیل ہے:

1. درمیانہ درجے کا سیلاب:
جب دریا کا پانی معمول سے کچھ بلند ہوتا ہے اور ندیوں، نالوں یا واٹر کورسز میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے، لیکن یہ ہنگامی حالات پیدا کرنے کی حد تک نہیں ہوتا۔
– پانی کا بہاؤ: درمیانے درجے کے سیلاب میں پانی کا بہاؤ عام طور پر 30,000 سے 70,000 کیوسک (پانی کی مقدار فی سیکنڈ) کے درمیان ہوتا ہے، جیسا کہ دریائے سندھ یا دیگر بڑے دریاؤں کے لیے بیان کیا جاتا ہے۔
– اثرات:
– قریبی علاقوں میں زرعی زمینوں، سڑکوں اور چھوٹی بستیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
– لوگوں کو نقل مکانی کی ضرورت پڑ سکتی ہے، لیکن یہ بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث نہیں بنتا۔
– بنیادی ڈھانچے کو محدود نقصان ہوتا ہے، جیسے کہ عارضی پانی جمع ہونا یا معمولی سڑکوں کا بند ہونا۔
جب NDMA رپورٹ کرتی ہے کہ دریا میں پانی کا بہاؤ “درمیانے درجے” تک بڑھ گیا ہے، تو یہ عام طور پر واٹر لیول کی ایسی صورتحال ہوتی ہے جو قابو میں رکھی جا سکتی ہے۔

2. اونچے درجے کا سیلاب:
جب پانی کی سطح یا بہاؤ خطرناک حد تک بلند ہو جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر تباہی کا خطرہ ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر شدید بارشوں، گلیشیئر پگھلنے یا ڈیموں سے پانی کے اخراج کی وجہ سے ہوتا ہے۔
– پانی کا بہاؤ: پانی کا بہاؤ 70,000 کیوسک سے زیادہ ہو سکتا ہے، جو دریا کے کناروں کو توڑنے یا بڑے علاقوں کو زیر آب لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
– اثرات:
– بڑے شہری اور دیہی علاقوں میں پانی داخل ہو سکتا ہے، جس سے مکانات، فصلیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو سکتا ہے۔
– لوگوں کی نقل مکانی اور ریسکیو آپریشنز کی ضرورت پڑتی ہے۔
– مواصلاتی نظام، بجلی اور پانی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
2010، 2022 اور 2025 کے حالیہ سیلاب پاکستان میں اونچے درجے کے سیلاب کی مثالیں ہیں، جہاں دریاؤں نے اپنی حدود کو عبور کر لیا اور بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے۔

فرق:
– شدت: درمیانہ درجہ کم خطرناک ہوتا ہے، جبکہ اونچا درجہ شدید تباہی کا باعث بنتا ہے۔
– انتظام: درمیانے درجے کے سیلاب کو مقامی انتظامیہ سنبھال سکتی ہے، جبکہ اونچے درجے کے سیلاب کے لیے قومی سطح پر ایمرجنسی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔
– الرٹ لیول: NDMA اور محکمہ موسمیات درمیانے درجے کے لیے “محتاط رہنے” کی ہدایت دیتے ہیں، جبکہ اونچے درجے کے لیے “ہائی الرٹ” جاری کیا جاتا ہے۔

یہ دونوں حالات پاکستان جیسے ملک میں، جہاں مون سون بارشیں اور دریائی نظام اہم ہیں، کافی عام ہیں اور ان کا انتظام پیشگی تیاری اور واٹر مینجمنٹ سے کیا جاتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
اپنا تبصرہ لکھیں