برتن دھونے والے اسپونج

برتن دھونے والے اسپونج پرانسانی فضلے کے برابر جراثیم: جدید تحقیق

حالیہ سائنسی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ برتن دھونے والے اسپونج(kitchen sponges) میں جراثیم کی تعداد انسانی فضلے کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ نتائج کئی مطالعات، خاص طور پر جرمن سائنسدانوں کی ایک تحقیق (Scientific Reports) سے سامنے آئے ہیں.
جراثیم کی مقدار:

ایک عام باورچی خانے کے اسپونج میں فی مربع سینٹی میٹر 50 بلین سے زیادہ جراثیم ہو سکتے ہیں۔ یہ تعداد انسانی فضلے (جو فی گرام تقریباً 100 ملین سے 1 بلین جراثیم پر مشتمل ہوتا ہے) کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔
اسپونج کی غیر محفوظ (porous) ساخت اور نمی کو جذب کرنے کی صلاحیت اسے جراثیم، بیکٹیریا، اور فنگی کے لیے مثالی افزائش گاہ بناتی ہے۔

جراثیم کی اقسام:

تحقیق میں پائے جانے والے جراثیم میں Escherichia coli (E. coli)، Salmonella، Staphylococcus aureus، اور Campylobacter شامل ہیں، جو فوڈ پوائزننگ، پیٹ کے انفیکشن، اور دیگر بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، Moraxella osloensis جیسے بیکٹیریا بھی پائے گئے، جو اسپونج کی بدبو کا سبب بنتے ہیں اور الرجی یا سانس کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

اسپونج کیوں جراثیم کی افزائش گاہ ہیں:

نمی: اسپونج ہمیشہ نم رہتا ہے، جو بیکٹیریا کی نشوونما کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتا ہے۔
غذائی باقیات: برتن دھوتے وقت اسپونج میں کھانے کے ذرات پھنس جاتے ہیں، جو جراثیم کے لیے خوراک کا کام کرتے ہیں۔
ہوا کی کمی: اسپونج کی گہری تہوں میں آکسیجن کی کمی بیکٹیریا کی افزائش کو مزید بڑھاتی ہے۔

جدید تحقیق (2023-2025 تک کے رجحانات):
نئی مطالعات:
2023 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق (Journal of Applied Microbiology) نے تصدیق کی کہ باورچی خانے کے اسپونجوں میں پائے جانے والے بیکٹیریا اینٹی بائیوٹک مزاحمت (antibiotic resistance) پیدا کر سکتے ہیں، جو علاج کو مشکل بنا دیتا ہے۔

بائیو فلم کی تشکیل:
اسپونج میں بائیو فلم (biofilm) بنتے ہیں، جو بیکٹیریا کی ایسی کالونیاں ہیں جو صفائی کے باوجود ختم نہیں ہوتیں۔ یہ بائیو فلم بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

مائیکروویو اور ابالنے کی افادیت:
کچھ مطالعات نے بتایا کہ اسپونج کو مائیکروویو کرنے یا ابلتے پانی میں دھونے سے جراثیم کی تعداد کم ہو سکتی ہے، لیکن مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق، مائیکروویو سے صرف 60% جراثیم ختم ہوتے ہیں، اور کچھ مضر بیکٹیریا باقی رہ جاتے ہیں۔

صحت پر اثرات:

فوڈ پوائزننگ:
اسپونج برتن دھونے سے جراثیم کھانے کی تیاری کی سطحوں یا برتنوں پر منتقل ہو سکتے ہیں، جو فوڈ پوائزننگ کا باعث بنتے ہیں۔
ہاضمے کے مسائل:
E. coli اور Salmonella جیسے بیکٹیریا پیٹ کے انفیکشن، اسہال، اور الٹی کا سبب بن سکتے ہیں۔
الرجی اور سانس کے مسائل:
Moraxella جیسے بیکٹیریا سانس کی بیماریوں یا الرجیز کو بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر حساس افراد میں۔

اسپونج کو صاف رکھنے کے طریقے:

جدید تحقیق کے مطابق، اسپونج کو جراثیم سے پاک رکھنا مشکل ہے، لیکن درج ذیل اقدامات خطرے کو کم کر سکتے ہیں:
ہر ہفتے اسپونج تبدیل کریں: ماہرین ہر 1-2 ہفتوں میں اسپونج بدلنے کی تجویز دیتے ہیں۔

دھونے کے طریقے:

مائیکروویو: گیلے اسپونج کو 1-2 منٹ تک مائیکروویو کریں (یقینی بنائیں کہ اس میں کوئی دھاتی حصہ نہ ہو)۔
ابلتا پانی: اسپونج کو 5 منٹ تک ابلتے پانی میں ڈبوئیں۔
ڈش واشر: اسپونج کو ڈش واشر کے گرم سائیکل میں دھوئیں۔
خشک رکھیں: استعمال کے بعد اسپونج کو نچوڑ کر خشک جگہ پر رکھیں تاکہ نمی کم ہو۔
متعدد اسپونج استعمال کریں: برتنوں، سنک، اور دیگر سطحوں کے لیے الگ الگ اسپونج استعمال کریں تاکہ کراس کنٹامیشن کم ہو۔

متبادل حل:

ڈش کلاتھ: دھو سکتے کپڑوں کا استعمال، جنہیں روزانہ گرم پانی اور صابن سے دھویا جا سکتا ہے۔
سلیکون اسپونج: یہ غیر محفوظ ہوتے ہیں اور جراثیم کی افزائش کم کرتے ہیں۔ انہیں آسانی سے صاف کیا جا سکتا ہے۔
ڈش برش: پلاسٹک یا لکڑی کے برش جراثیم کی افزائش کے لیے کم سازگار ہوتے ہیں۔

تجاویز اور احتیاط:

باورچی خانے میں صفائی کے معیارات کو بہتر بنائیں، جیسے برتن دھونے سے پہلے کھانے کے ذرات ہٹائیں۔
اسپونج کو خام گوشت، مچھلی، یا دیگر آلودہ اشیاء سے دور رکھیں۔
اگر آپ کے گھر میں کوئی بیمار ہے یا مدافعتی نظام کمزور ہے، تو اسپونج کا استعمال کم سے کم کریں۔

باورچی خانے کے اسپونج جراثیم کی افزائش کے لیے انتہائی سازگار ہوتے ہیں اور ان میں انسانی فضلے کے برابر یا اس سے زیادہ جراثیم ہو سکتے ہیں۔ جدید تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا باقاعدہ استعمال صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر مناسب صفائی نہ کی جائے۔ اسپونج کو باقاعدگی سے تبدیل کرنا، صاف کرنا، یا متبادل استعمال کرنا صحت کے خطرات کو کم کر سکتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
اپنا تبصرہ لکھیں