ای ون سیٹلمنٹ

فلسطین ختم کرنے کا ای ون سیٹلمنٹ منصوبہ کیا ہے

مقبوضہ مغربی کنارے میں مشرقی یروشلم اور مالی ادومیم کی بستی کے درمیان 3 ہزار 401 مکانات تعمیر کرنے کے حوالے سے ای۔ون کہلائے جانے والا یہ منصوبہ کئی دہائیوں تک سخت مخالفت کے باعث فریز (ناقابل عمل) رہا ہے۔بین الاقوامی دباؤ کے باعث 2012 میں اسے منجمد کر دیا گیا تھا۔ اگست 2025 میں اسرائیلی وزیر بیزلل سموٹرچ نے اسے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔

فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اس منصوبے کو ’’نسل کشی، جبری بے دخلی اور زمین کے الحاق کے جرائم کا تسلسل‘ قرار دیا ہے.

’ای ون‘ منصوبہ :
اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان سب سے زیادہ متنازع مسائل میں سے ایک مسئلہ سیٹلمنٹ یعنی آبادکاریاں ہیں۔ای۔ون آبادکاری منصوبہ پہلی بار 1990 کی دہائی میں اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابین کے دور میں تجویز کیا گیا تھا، اس میں ابتدائی طور پر 2,500 گھر بنانے کی تجویز دی گئی تھی۔
2004 میں اس کا دائرہ بڑھا کر تقریباً 4,000 یونٹس تک کر دیا گیا جن میں کمرشل اور سیاحتی عمارتیں بھی شامل تھیں۔

2009 سے 2020 کے درمیان اس منصوبے کے مختلف مراحل کا اعلان کیا گیا جن میں زمینوں کو ضبط کیا جانا، نقشہ سازی اور سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے شامل تھے۔تاہم ہر بار بین الاقوامی دباؤ کے باعث ان تجاویز کو منجمد کرکے عمل درآمد روک دیا گیا۔
دو ریاستی حل کا خاتمہ:
ای ون منصوبہ مغربی کنارے کو شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم کر دے گا، جس سے مشرقی یروشلم کو مغربی کنارے سے الگ کر دیا جائے گا۔ یہ ایک جغرافیائی طور پر مربوط اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کو تقریباً ناممکن بنا دیتا ہے، کیونکہ مشرقی یروشلم فلسطینیوں کے لیے مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیلی موقف:
اسرائیلی وزیر بیزلل سموٹرچ نے کہا کہ یہ منصوبہ فلسطینی ریاست کے خیال کو دفن کرنے کے لیے ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ ان کی تاریخی سرزمین ہے، اور یہودیوں کو وہاں رہنے کا حق ہے۔اسرائیلی وزارت خارجہ نے بین الاقوامی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یروشلم ان کا ابدی دارالحکومت ہے، اور وہ کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔
بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی:
اقوام متحدہ، برطانیہ، فرانس، اور دیگر 21 ممالک نے اس منصوبے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، کیونکہ یہ مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کو فروغ دیتا ہے۔
فلسطینی ردعمل:
فلسطینی اتھارٹی نے اس منصوبے کو فلسطینی علاقوں کو “جیلوں” میں تبدیل کرنے اور فلسطینی ریاست کے خیال کو دفن کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اسے روکنے کے لیے پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔
بین الاقوامی ردعمل:
اقوام متحدہ: سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ ای ون منصوبے کو فوری طور پر روکا جائے، کیونکہ یہ دو ریاستی حل کو کمزور کرتا ہے اور کشیدگی بڑھاتا ہے۔
برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک:
18 یورپی ممالک، کینیڈا، جاپان، اور آسٹریلیا نے اس منصوبے کی مذمت کی اور اسے فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ برطانیہ نے اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا۔
فلسطین کی حمایت:
آسٹریلیا، فرانس، اور دیگر ممالک نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کی بات کی، جو اس منصوبے کے اعلان کے بعد مزید تقویت پکڑ رہی ہے.

50% LikesVS
50% Dislikes
اپنا تبصرہ لکھیں