جج فرینک کیپریو

دُنیا کے سب سے اچھے جج فرینک کیپریو

اپنی رحمدلی، انسان دوستی اور خوش مزاجی کی وجہ سے نہ صرف امریکہ بلکہ دُنیا بھر میں شہرت پانے والے جج فرینک کیپریو 88 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ وہ دو برس سے کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے۔
جج کیپریو نے دنیا میں ایسے کورٹ روم کی روایت قائم کی جہاں لوگوں اور اُن کے خلاف کیسز کو رحمدلی اور ہمدردی کی بنیاد پر دیکھا جاتا تھا۔
جج کیپریو جرمانے معاف کرنے اور لوگوں کے ساتھ ہمدری کے ساتھ پیش آنے کی وجہ سے دنیا بھر میں مقبول تھے۔

جج فرینک کیپریو (Frank Caprio) ایک امریکی جج تھے جو اپنی رحمدلی، انسان دوستی اور منفرد عدالتی انداز کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہوئے۔ وہ امریکی ریاست رھوڈ آئی لینڈ کے شہر پروویڈنس کے چیف میونسپل جج رہے اور ان کی عدالتی کارروائی ٹیلی ویژن پروگرام Caught in Providence میں دکھائی جاتی تھی، جو سوشل میڈیا پر بھی بے حد مقبول ہوئی۔ ان کے فیصلوں کی ویڈیوز کو لاکھوں بار دیکھا گیا، اور انہوں نے اپنی ہمدردی اور ہلکے پھلکے مزاح سے لوگوں کے دل جیتے۔

جج کیپریو اپنے فیصلوں میں قانون کے ساتھ ساتھ انسانیت کو ترجیح دیتے تھے۔ وہ مقدمات کے پس منظر کو سمجھ کر فیصلے کرتے، مثلاً غریب یا مشکل حالات میں مبتلا افراد کے جرمانے معاف کر دیتے۔ ایک پاکستانی جوڑے کے ساتھ ان کی پیشی کی ویڈیو، جہاں انہوں نے جرمانہ معاف کیا اور چترالی ٹوپی قبول کی، پاکستان میں وائرل ہوئی۔

ان کے پروگرام Caught in Providence کی ویڈیوز یوٹیوب پر لاکھوں بار دیکھی گئیں۔ 2017 میں ان کی ایک ویڈیو کو 15 ملین سے زائد بار دیکھا گیا، اور 2022 تک ان کے یوٹیوب چینل کے سبسکرائبرز 2.92 ملین تک پہنچ گئے۔

کیپریو نے پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ گہرا رابطہ رکھا۔ انہوں نے 14 اگست 2025 کو پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کیا جس میں پاکستانی پرچم کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کی۔ اس کے علاوہ، ایک پاکستانی جوڑے نے انہیں اپنے گھر مدعو کیا اور مٹن کڑاہی بنائی، جو ان کی انسان دوستی کی ایک اور مثال ہے۔

رھوڈ آئی لینڈ کے گورنر ڈین میکی نے کہا کہ کیپریو ایک جج سے بڑھ کر ہمدردی کی علامت تھے۔فرینک کیپریو کو “دنیا کے سب سے اچھے جج” کے طور پر یاد کیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے فیصلوں سے انصاف کو انسانی چہرہ دیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes
اپنا تبصرہ لکھیں