سائنسی تحقیق

پیشاب بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر کرنا چاہیے سائنسی تحقیق

مغرب کے بہت سے معاشروں میں بچوں کے ذہنوں میں یہ ڈالا جاتا ہے کہ لڑکے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہیں جب کہ لڑکیاں بیٹھ کر پیشاب کرتی ہیں۔اس ضمن میں صحت عامہ اور حفظان صحت کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہیں اور کچھ برابری کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔

مثانے میں زیادہ سے زیادہ گنجائش تین سو ملی لیٹر سے چھ سو ملی میٹر تک ہوتی ہے۔ عام طور پر ہم اس وقت پیشاب کی حاجت محسوس کرتے ہیں جب ہمارا مثانہ تین چوتھائی بھر جاتا ہے۔
یک سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جن مردوں کا پروسٹیٹ یا مثانے کے نیچے کا غدود بڑھ جاتا ہے اور اس وجہ سے پیشاب آنے میں رکاوٹ پیش آتی ہے لیکن بیٹھ کر پیشاب کرنے سے یہ تکلیف کم ہو سکتی ہے۔

اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیشاب کی تکلیف میں مبتلا مردوں میں بیٹھ کر پیشاب کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور وقت بھی کم لگتا ہے۔
یورپ کے بہت سے ملکوں میں یہ بحث تیز ہو گئی ہے، خاص طور پر جرمنی میں جہاں عوامی بیت الخلاؤں میں ٹریفک لائٹس کی طرز پر سرخ بتیاں لگا دی گئی ہیں جو کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے منع کر نے کے لیے لگائی گئی ہیں۔ بہت سے لوگوں نے اپنے گھروں کے بیت الخلاؤں میں مہمانوں کے لیے ایسی ہدایات لکھ کر لگا رکھی ہیں جن میں انھیں بیٹھ کر پیشاب کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔

ایک مطالعے کے مطابق (مثلاً، The Journal of Urology میں شائع شدہ تحقیق)، بیٹھ کر پیشاب کرنے سے مثانہ زیادہ مؤثر طریقے سے خالی ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیٹھنے سے شرونیی عضلات (pelvic floor muscles) زیادہ آرام دہ حالت میں ہوتے ہیں، جو پیشاب کے بہاؤ کو بہتر بناتا ہے۔ یہ خاص طور پر ان مردوں کے لیے فائدہ مند ہے جنہیں پروسٹیٹ کے مسائل یا پیشاب کی نالی کی تنگی (urethral stricture) ہو۔
بوڑھے مردوں یا پروسٹیٹ کی بیماریوں (مثلاً benign prostatic hyperplasia) میں مبتلا افراد کے لیے بیٹھ کر پیشاب کرنا بہتر ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ مثانے پر دباؤ کم کرتا ہے اور پیشاب کے بہاؤ کو آسان بناتا ہے۔
بیٹھ کر پیشاب کرنے سے پیشاب کے چھینٹوں (splashing) کا امکان کم ہوتا ہے، جو باتھ روم کی صفائی کے لیے بہتر ہے۔ ایک جرمن مطالعہ میں بتایا گیا کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے چھینٹوں کی وجہ سے جراثیم پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

گردے کی پتھری کے تناظر میں، بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کا براہ راست تعلق نہیں پایا گیا۔ تاہم، اگر مثانہ مکمل طور پر خالی نہیں ہوتا (جو کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے کبھی کبھار ہو سکتا ہے)، تو پیشاب میں موجود معدنیات (جیسے کیلشیم یا یورک ایسڈ) جم کر پتھری بننے کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ بیٹھ کر پیشاب کرنے سے اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ مثانہ بہتر طور پر خالی ہوتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
اپنا تبصرہ لکھیں