مردوں میں کئی وجوہات کی بنا پر عورتوں کے مقابلے میں گردے کی پتھری ہونے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔ جیسے ہارمونل، اور طرز زندگی بہت زیادہ باہر رہنا، جسمانی مشقت اور پسینے کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی وغیرہ۔
ہارمونل فرق:
عورتوں میں ایسٹروجن ہارمون گردے کی پتھری بننے کے امکانات کو کم کرتا ہے کیونکہ یہ پیشاب میں سٹریٹ (citrate) کی سطح کو بڑھاتا ہے، جو کیلشیم آکسالیٹ پتھریوں کی تشکیل کو روکتا ہے۔ مردوں میں یہ ہارمونل تحفظ نہیں ہوتا۔
پیشاب کی ساخت:
مردوں کے پیشاب میں عام طور پر کیلشیم اور آکسالیٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو پتھری بننے کا باعث بنتی ہے۔ اس کے علاوہ، مردوں کے پیشاب میں سٹریٹ کی سطح کم ہو سکتی ہے، جو پتھری کی تشکیل کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔
جسمانی ساخت:
مردوں کی گردوں اور پیشاب کی نالی کا ڈھانچہ کچھ معاملات میں پتھری کے بننے یا اس کے اخراج کو زیادہ پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
طرز زندگی اور غذائی عادات:
مرد عام طور پر زیادہ پروٹین اور نمک والی غذائیں کھاتے ہیں، جو گردے کی پتھری کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، مردوں میں پانی کی کمی (dehydration) کا رجحان زیادہ ہوتا ہے، جو پیشاب کے ارتکاز کو بڑھاتا ہے اور پتھری بننے کا سبب بنتا ہے۔
جینیاتی اور میٹابولک عوامل:
مردوں میں یورک ایسڈ کی سطح زیادہ ہوتی ہے، جو یورک ایسڈ پتھریوں کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ یہ خاص طور پر ان مردوں میں زیادہ ہوتا ہے جو زیادہ گوشت یا الکحل کا استعمال کرتے ہیں۔
پیشہ ورانہ عوامل:
مرد اکثر ایسی نوکریوں میں ہوتے ہیں جہاں وہ زیادہ پسینہ بہاتے ہیں یا کم پانی پیتے ہیں، جو پتھری کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔
اگرچہ مردوں میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے، لیکن عورتیں بھی گردے کی پتھری سے متاثر ہو سکتی ہیں، خاص طور پر حمل یا رجونورتی کے بعد جب ہارمونل تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ کافی پانی پینا، نمک اور پروٹین کی مقدار کو کنٹرول کرنا، اور صحت مند طرز زندگی اپنانا دونوں جنسوں میں اس خطرے کو کم کر سکتا ہے۔