اردو شاعری

غمگین | اداس | اردو شاعری

غمگین | اداس | اردو شاعری| Sad Poetry in Urdu :

اردو شاعری اپنی جذباتی گہرائی اور خوبصورتی کی وجہ سے پاکستانی ثقافت کا لازمی حصہ ہے۔ غمگین شاعری، جو دل کے درد، جدائی، اور تنہائی کے جذبات کو بیان کرتی ہے، خاص طور پر قارئین کے دلوں کو چھوتی ہے۔

دل کے زخم چھپائے بیٹھے ہیں،
رات کی خاموشی میں جلتے ہیں۔
یادوں کا سمندر لے ڈوبا،
خواب جو ٹوٹے، وہ پلتے ہیں۔

چاندنی راتوں میں تنہائی بھاری،
دل کی بستی میں سناٹا ساری۔
ہر سانس میں بس ایک صدا باقی،
وہ جو چلا گیا، اب دل میں جاری

کاش ایسا ہو کہ اب کے بے وفائی میں کروں
تو پھرے قریہ بہ قریہ کو بہ کو میرے لیئے

اور میں لامحدود ہو جاؤں سمندر کی طرح
تو بہے دریا بہ دریا جو بہ جو میرے لیئے

میں بجھ گیا تو کہیں دور جا کے رکھ دینا
مرے دھویں سے کوئی دوسرا خراب نہ ہو.

چاند کی رعنائیوں میں یہ راز مستور ہے
خوبصورت وہی ہے جو دسترس سے دور ہے

منزلیں بھی اس کی تھیں
راستہ بھی اس کا تھا
ایک ہم اکیلے تھے
قافلہ بھی اس کا تھا
ساتھ ساتھ چلنے کی
سوچ بھی اس کی تھی
پھر راستہ بدلنے کا
فیصلہ بھی اس کا تھا
آج کیوں اکیلے ھیں
دل سوال کرتا ہے
لوگ تو اُس کے تھے
کیا خدا بھی اس کاتھا

تاروں بھری پلکوں کی برسائی ہوئی غزلیں
ہے کون پروئے جو بکھرائی ہوئی غزلیں

وہ لب ہیں کہ دو مصرعے اور دونوں برابر کے
زلفیں کہ دل شاعر پر چھائی ہوئی غزلیں

یہ پھول ہیں یا شعروں نے صورتیں پائی ہیں
شاخیں ہیں کہ شبنم میں نہلائی ہوئی غزلیں

ہائے وہ شخص کہ جس کی خوبئ گفتار سے!!!
عشق اردو سے ہوا اور شاعری اچھی لگی

معروف مسافر تھے مگر راہ میں بچھڑے
ہم پہلی دفعہ عالمِ ارواح میں بچھڑے_

ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح
اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح

اس کوئے تشنگی میں بہت ہے کہ ایک جام
ہاتھ آ گیا ہے دولت بیدار کی طرح

وہ تو کہیں ہے اور مگر دل کے آس پاس
پھرتی ہے کوئی شے نگہ یار کی طرح

خود کلامی میں راتیں گزر جائیں گی
ہفتہ گزرے گا, عمریں گزر جائیں گی

پتھروں کی طرح وہ رہے گا خموش
ساری کی ساری باتیں گزر جائیں گی

ہم کھلونوں سے منہ موڑ لیں گے، اُدھر
پھیری والے کی نیندیں گزر جائیں گی

بنا دیکھے کسی سے عشق کر کے سوچتا ہوں میں
نہیں دیکھا ہے کچھ تو عشق آخر دیکھتا کیا ہے

درد اتنا دیا تو نے ورنہ کہاں
مانگتا ہے جدائی کوئی دل سے کبھی

پھر یوں ہوا کہ بات حدوں سے نکل گئی
کچھ خواب رنجشوں کی حراست میں مر گئے

کوئی آہٹ کوئی جنبش کوئی دستک نہیں ہے
ہمارے دشتِ ویراں میں بڑی فُرصت کا عالم ہے

وقت نے ختم کر دیے سارے وسیلے شوق کے
دِل تھا ، اُلٹ پُلٹ گیا ، آنکھ تھی ، بُجھ بُجھا گئ

یہ تجربات کتابوں میں تھوڑی لکھے تھے
بھوت سے سال لگے سال بھی جوانی کے

دکھ تو یہ ہے کہ کسی بات پہ ہنستے ہوئے ہم،
دو گھڑی بعد کسی بات پہ رونے لگ جائیں!

برسوں بعد اس نے پوچھا کیا کرتے ہو
میں نے کہا تمہارا لوٹ کر آنے کا انتظار

تُجھے کُچھ تو کرنا ہو گا__ اَب سامانِ تشنگی
دِل اَب فَقط دِلاسوں سے__ تو نہیں بہلنے والا
غَمِ ہجر پھلانگ بھی سکتا ہے مری چاردیواری
اَب زیادہ دیر یہ گلی مُحلے میں نہیں ٹہلنے والا

دوستی جب کسی سے کی جاۓ،
دشمنوں کی بھی راۓ لی جاۓ۔

میرا عقیدہ، میری عقیدت ، میری چاہت ، میری محبت..
جو لفظ دیکھو تو ہزار ہیں اور اگرسمیٹ دوں تو صرف تم…

ہم انتظار کے قائل نہ تھے مگر تم نے
لگا دیا ہمیں دیوار سے گھڑی کی طرح

ہم سے کوئی تعلق خاطر تو ہے اسے
وہ یار با وفا نہ سہی بے وفا تو ہے ۔۔۔۔۔

50% LikesVS
50% Dislikes
اپنا تبصرہ لکھیں