وزن کم کرنے والے انجیکشنز، خاص طور پر جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگونسٹس (GLP-1 Receptor Agonists) جیسے مونجارو (Mounjaro)اوزیمپک (Ozempic)، اور ویگووی (Wegovy)، حالیہ برسوں میں بھوک کم کرنے اور وزن میں کمی کے لیے کافی مقبول ہوئے ہیں۔ یہ انجیکشنز بنیادی طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج کے لیے تیار کیے گئے تھے لیکن ان کے وزن کم کرنے کے فوائد کی وجہ سے اب عام استعمال میں ہیں۔ ذیل میں ان کے بارے میں تفصیلی معلومات دی جا رہی ہیں:
انجیکشنز کیسے کام کرتے ہیں؟
– یہ انجیکشنز GLP-1 ہارمون کی نقل کرتے ہیں، جو قدرتی طور پر آنتوں میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہارمون:
– بھوک کو کم کرتا ہے: دماغ کو سگنل دیتا ہے کہ پیٹ بھر گیا ہے، جس سے کھانے کی خواہش کم ہوتی ہے۔
– ہاضمے کو سست کرتا ہے: معدے سے خوراک کے اخراج کو سست کرتا ہے، جس سے آپ زیادہ دیر تک سیر محسوس کرتے ہیں۔
– بلڈ شوگر کو کنٹرول کرتا ہے: انسولین کی حساسیت بڑھاتا ہے اور بلڈ شوگر کی سطح کو مستحکم رکھتا ہے۔
– HCG انجیکشنز (Human Chorionic Gonadotropin) بھی وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ جسم کی چربی کو پگھلاتے ہیں اور بھوک کو کم کرتے ہیں، لیکن ان کا استعمال متنازع ہے اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔
مشہور انجیکشنز
1. مونجارو (ٹیرزیپاٹائڈ / Tirzepatide):
– یہ ایک ہفتہ وار انجیکشن ہے جو GLP-1 اور GIP ہارمونز دونوں کو ہدف بناتا ہے، جو اسے زیادہ موثر بناتا ہے۔
– ایک سال کے استعمال سے اوسطاً 26 کلوگرام وزن کم ہو سکتا ہے۔
– یہ ذیابیطس کے علاج اور وزن کم کرنے دونوں کے لیے FDA سے منظور شدہ ہے۔
2. اوزیمپک اور ویگووی (سیماگلوٹائڈ / Semaglutide):
– ہفتہ وار انجیکشن جو بھوک کم کرتا ہے اور وزن میں نمایاں کمی لاتا ہے۔
– ویگووی خاص طور پر وزن کم کرنے کے لیے منظور شدہ ہے۔
3. HCG انجیکشنز:
– 6 ہفتوں میں 10-12 کلوگرام وزن کم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
– اس کے ساتھ مخصوص کم کیلوری والی ڈائٹ (40 دن تک بغیر تیل کا کھانا) لازمی ہے۔
فوائد
– وزن میں کمی: مطالعات کے مطابق یہ انجیکشنز 10-20% جسمانی وزن کم کر سکتے ہیں، جو بعض اوقات سرجری کے نتائج کے برابر ہوتا ہے۔
– ذیابیطس کا انتظام: بلڈ شوگر کو کنٹرول کرتے ہیں، جو ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ہے۔
– دیگر صحت فوائد: ڈیمنشیا کے خطرات کم کر سکتے ہیں، دمے کی علامات کو بہتر بنا سکتے ہیں، اور نیند میں سانس کی روانی کے مسائل کو کم کر سکتے ہیں۔
– مائیگرین میں کمی: GLP-1 انجیکشنز مائیگرین کے دوروں کو کم کر سکتے ہیں۔
مضر اثرات
– عام مسائل: متلی، الٹی، قبض، اسہال، یا پیٹ میں درد۔
– HCG کے مضر اثرات: تھکن، کم بلڈ پریشر، یا ہاضمے کے مسائل۔
– پیٹ کے مسائل: GLP-1 انجیکشنز بعض اوقات ہاضمے کے مسائل بڑھا سکتے ہیں۔
– دماغی صحت: کچھ مطالعات میں GLP-1 انجیکشنز کو ڈیمنشیا کے خطرے سے جوڑا گیا ہے، اگرچہ یہ ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں میٹافارمن سے زیادہ فائدہ مند بھی ثابت ہوئے ہیں۔
احتیاط
– ڈاکٹر کا مشورہ لازمی: ان انجیکشنز کا استعمال صرف ماہرِ غذائیات یا ڈاکٹر کے مشورے سے کریں، کیونکہ ان کا غلط استعمال صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
– طویل مدتی اثرات: ماہرین کے مطابق یہ انجیکشنز عارضی حل ہو سکتے ہیں، کیونکہ بھوک کی زیادتی اکثر نفسیاتی وجوہات سے ہوتی ہے۔ مستقل وزن کم کرنے کے لیے طرزِ زندگی میں تبدیلی (صحت مند غذا، ورزش) ضروری ہے۔
– کون استعمال نہ کرے:
حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں، یا مخصوص بیماریوں (جیسے پینکریاٹائٹس) کے مریضوں کو یہ انجیکشنز استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔
کیا یہ مستقل حل ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انجیکشنز وزن کم کرنے میں مؤثر ہیں، لیکن مستقل نتائج کے لیے ان کے ساتھ صحت مند طرزِ زندگی اپنانا ضروری ہے۔ اگر انجیکشن بند کر دیے جائیں تو وزن دوبارہ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ یہ بھوک کی بنیادی وجوہات (مثلاً نفسیاتی یا ہارمونل مسائل) کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتے۔
استعمال کا طریقہ
– یہ انجیکشنز عام طور پر ہفتے میں ایک بار بازو، ران، یا پیٹ میں لگائے جاتے ہیں۔
– HCG انجیکشنز کے ساتھ کم کیلوری والی ڈائٹ لازمی ہے، جس میں ہر 3 گھنٹے بعد مخصوص غذائیں کھانی ہوتی ہیں۔
قیمت اور دستیابی
– قیمت کے بارے میں درست معلومات کے لیے (مونجارو، اوزیمپک) یا (ویگووی) ملاحظہ کریں۔
– انجیکشنز صرف نسخے کے ساتھ ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیات سے رجوع کر کے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
نوٹ: اگر آپ ان انجیکشنز کے استعمال پر غور کر رہے ہیں، تو اپنے ڈاکٹر سے تفصیلی مشورہ کریں تاکہ آپ کی صحت کے مطابق بہترین فیصلہ کیا جا سکے۔