معروف مصنف آسکر وائلڈ نے کہا تھا کہ ’ہماری یادداشت وہ ڈائری ہے جو ہم سب اپنے ساتھ لے کر گھومتے ہیں۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری یادداشت کمزور ہوتی جاتی ہے یا سادہ الفاظ میں اِس ڈائری کے کچھ صفحے بعض اوقات کھو جاتے ہیں یا ہم انھیں کہیں رکھ کر بھول جاتے ہیں، جو کہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔
بڑھتی عمر کے ساتھ یادداشت کی کمزوری (جسے عام طور پر ڈیمنشیا یا الزائمر سے جوڑا جاتا ہے) سے بچاؤ کے لیے چند عملی اور سائنسی طور پر ثابت شدہ اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ ذیل میں کچھ اہم تجاویز دی گئی ہیں:
1. دماغی سرگرمیاں:
– دماغ کو فعال رکھنے کے لیے پہیلیاں، کراس ورڈز، سوڈوکو، یا نئی مہارتیں سیکھیں (مثلاً کوئی نیا آلہ موسیقی یا زبان)۔
– کتابیں پڑھنا، لکھنا، یا نئی معلومات حاصل کرنا دماغ کی صحت کے لیے مفید ہے۔
2. جسمانی ورزش:
– باقاعدہ ورزش (جیسے تیز چہل قدمی، یوگا، یا تیراکی) دماغ میں خون کے بہاؤ کو بہتر بناتی ہے اور نیورونز کی نشوونما کو فروغ دیتی ہے۔
– ہفتے میں کم از کم 150 منٹ کی معتدل ایروبک ورزش کریں۔
3. صحت مند غذا:
– میڈیٹرینین ڈائٹ کو ترجیح دیں، جس میں سبزیاں، پھل، گری دار میوے، مچھلی، اور زیتون کا تیل شامل ہو۔
– اومیگا-3 فیٹی ایسڈز (مچھلی، اخروٹ)، اینٹی آکسیڈنٹس (بیریز، ہری سبزیاں)، اور وٹامن ای دماغ کے لیے فائدہ مند ہیں۔
– پروسیسڈ فوڈز، زیادہ چینی، اور سیر شدہ چکنائی سے پرہیز کریں۔
4. اچھی نیند:
– 7-8 گھنٹے کی معیاری نیند دماغ کی معلومات کو ترتیب دینے اور یادداشت کو مضبوط کرنے میں مدد دیتی ہے۔
– نیند کے مسائل (جیسے سانس کی روانی میں رکاوٹ) کا علاج کرائیں۔
5. دباؤ کا انتظام:
– دائمی تناؤ یادداشت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ مراقبہ، یوگا، یا گہری سانس لینے کی مشقیں تناؤ کم کرتی ہیں۔
– سماجی رابطوں کو مضبوط رکھیں؛ دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنا دماغی صحت کو بہتر بناتا ہے۔
6. صحت کے مسائل کا خیال:
– بلڈ پریشر، ذیابیطس، اور کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھیں، کیونکہ یہ دماغی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
– تمباکو نوشی اور ضرورت سے زیادہ الکحل سے پرہیز کریں۔
7. سماجی سرگرمیاں:
– سماجی طور پر فعال رہنا دماغ کو چست رکھتا ہے۔ گروپ سرگرمیوں، کلبوں، یا رضاکارانہ کاموں میں حصہ لیں۔
8. باقاعدہ صحت کی جانچ:
– ڈاکٹر سے باقاعدہ چیک اپ کروائیں تاکہ وٹامن کی کمی (جیسے وٹامن B12) یا دیگر مسائل کا بروقت پتہ چل سکے۔
نوٹ: اگر آپ کو یادداشت میں نمایاں کمی یا الجھن کے مسائل نظر آئیں تو فوری طور پر ماہرِ دماغی امراض (نیورولوجسٹ) سے رجوع کریں۔ ابتدائی تشخیص اور علاج بہت اہم ہے۔