قیلولے کی تربیت

قیلولے کی تربیت حاصل کریں

لیکن آئیے آنکھ لگنے کے مختصر لمحوں پر توجہ مرکوز کریں، کیونکہ دن کے درمیان کسی وقت ڈیڑھ گھنٹہ تلاش کرنا ہر ایک کے بس میں نہیں ہوتا ہے – جب تک کہ ہم کسی ایسے ملک میں نہیں رہتے جہاں قیلولہ ان کی ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہو، جیسے کہ شاید سپین یا یونان میں، جہاں کام کے اوقات لوگوں کی عادات کو مد نظر رکھ کر طے کیے جاتے ہیں۔

جیسا کہ میڈوز بتاتے ہیں کہ ایک مختصر وقت کے لیے آنکھ لگا لینا تیراکی یا موٹر سائیکل پر سوار ہونے کے مترادف ہے، یہ ایک ایسا ہنر ہے جس کے لیے تربیت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جسے مختصر وقت میں اور بڑی محنت کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ’اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے الارم لگائیں کہ آپ زیادہ نہیں سو رہے ہیں۔ اگر آپ روزانہ ایک ہی وقت پر سونے کی مشق کرتے ہیں تو آپ کا جسم اس سرگرمی کو ایک مخصوص وقت کے ساتھ وابستہ کرنے کی عادت پیدا کرلے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ‘ایک ایسا شخص جو آرام سے کام کرنے والے کے ساتھ آنکھ لگا نہیں سکتا یا قیلولہ نہیں لے سکتا ہے، اُسے یہ صلاحت پیدا کرنے میں تقریباً تین مہینے لگیں گے۔‘

اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو سونے پر مجبور نہ کریں بلکہ صرف بستر پر، کرسی یا کسی اور آرام دہ جگہ پر آرام کرنے کے لیے، کمرے میں اندھیرا کریں یا آنکھوں کو ڈھانپنے کے لیے ماسک کا استعمال کریں، اس لمحے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔

یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ قیلولہ لینے سے پانچ منٹ پہلے فون کو دیکھنا یا ای میلز پڑھنا چھوڑ دیں، سکون سے سانس لیں اور شاید تھوڑا سا پانی پی لیں۔ مختصراً یہ کہ سکون کریں اور آرام کریں۔

بغیر احساس کے سوجانا

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے دن کے وسط میں 15 منٹ تک سونا ناممکن ہے کیونکہ وہ اتنی آسانی سے سو نہیں سکتے ہیں۔ لیکن میڈوز کے مطابق ہم اکثر یہ جانے بغیر سو جاتے ہیں کہ ہم ایسا کر رہے ہیں۔
ایک تحقیق جس میں لوگوں کو سونے کی اجازت دی گئی تھی (جب کہ ان کے سروں پر الیکٹروڈ لگا کر یہ اندازہ لگایا گیا کہ وہ نیند کے کس مرحلے میں تھے) ظاہر ہوا کہ جب وہ پہلے مرحلے سے گزرے، جو کہ بہت ہلکا ہے، اور پھر وہ بیدار ہو گئے۔ اور پوچھا کہ کیا وہ جاگ رہے تھے یا سو رہے تھے، تو 65 فیصد نے کہا کہ وہ پورا وقت جاگتے رہے، حالانکہ وہ جاگے ہوئے نہیں تھے۔’

تحقیق کرنے والے کا کہنا ہے کہ ‘اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم بہتر طور پر سمجھ نہیں پاتے ہیں کہ آیا ہم سو رہے تھے یا نہیں۔ ‘

لیکن اس کے علاوہ مختصر سی آنکھ لگنے کے یا قیلولے کے فوائد صرف اس صورت میں حاصل نہیں ہوتے جب ہم سو جاتے ہیں بلکہ 10 سے 20 منٹ تک آنکھیں بند کرنے اور توقف کرنے سے بھی حاصل ہوتے ہیں۔

یہ نیند کا وقفہ ان لوگوں کے لیے اچھا ہے جو رات سے پہلے اچھی طرح سو چکے ہیں اور ان کے لیے بھی جو نہیں سوئے ہیں، حالانکہ یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہمیں ایک خاص وقت سے زیادہ نہیں سونا چاہیے (20 منٹ کی مختصر نیند کی صورت میں، اور 90 منٹ مکمل نیند کے قیلولے کے لیے) اگر ہم بیدار ہونے پر سستی محسوس نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
اپنا تبصرہ لکھیں