حالیہ اطلاعات کے مطابق، چینی ہیکرز نے مائیکروسافٹ شیئرپوائنٹ سرور سافٹ ویئر میں موجود سیکیورٹی خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی سطح پر متعدد اداروں پر سائبر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں تین چینی ہیکنگ گروپس—وائلٹ ٹائفون، لینن ٹائفون، اور Storm-2603—مبینہ طور پر ملوث ہیں، جنہوں نے حساس ڈیٹا چوری کرنے اور خفیہ سافٹ ویئر (مالویئر) نصب کرنے کے لیے ان خامیوں کا استحصال کیا۔ متاثرہ اداروں میں امریکی وفاقی اور ریاستی ایجنسیاں، یونیورسٹیاں، توانائی کی کمپنیاں، اور ایشیا کی ایک ٹیلی کام کمپنی شامل ہیں۔
مائیکروسافٹ نے خبردار کیا ہے کہ جب تک سیکیورٹی اپ ڈیٹس فوری طور پر اپڈیٹ نہیں کیے جاتے، یہ حملے جاری رہ سکتے ہیں۔ امریکی حکام نے ان حملوں کو “بڑا واقعہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہیکرز نے ملازمین کے ورک سٹیشنز اور اہم دستاویزات تک رسائی حاصل کی۔ تاہم، چین نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور انہیں “غیر ذمہ دارانہ” اور “شواہد سے عاری” قرار دیا ہے۔
یہ حملے حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والے متعدد سائبر حملوں کا حصہ ہیں، جن میں امریکی مواصلاتی کمپنیوں اور وزارت خزانہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے طویل عرصے سے جاری ہو سکتے ہیں اور ان کا مقصد اہم انفراسٹرکچر تک رسائی برقرار رکھنا ہے۔ مائیکروسافٹ اور امریکی حکام اداروں سے سیکیورٹی اپ ڈیٹس فوری اپنانے کی اپیل کر رہے ہیں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔