انڈیا کے لیے امریکی کیمپ کیوں پیچیدہ؟

Urdu-Publisher

ٹرمپ انتظامیہ کی ایک خفیہ رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے ہلچل مچ گئی ہے۔ اس رپورٹ میں امریکہ کی ایشیا پیسیفیک کے علاقے سے متعلق پالیسی کی بات کی گئی ہے۔ جس میں امریکہ اپنی ’انڈو پیسیفیک پالیسی‘ میں انڈو پیسیفیک علاقے میں پچھلے تین سالوں میں چین، انڈیا اور شمالی کوریا کے بارے میں حکمت عملی کا ذکر ہے۔ رپورٹ میں امریکہ عالمی حکمت عملی انڈیا کو اہمیت دینا چاہتا ہے تا کہ چین سے مقابلہ کیا جا سکے۔

رپورٹ میں دفاعی چیلینجز سے نمٹنے کے لیے کئی پہلوؤں کا ذکر ہے۔  رپورٹ میں چین اور  شمالی کوریا کو ایک مسئلے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں چین سے مقابلہ کرنے کے لیے علاقے کے لبرل معیشتوں والے ممالک کے ساتھ اتحاد پر زور دیا گیا ہے جو امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں چین سے مقابلہ کرنے کے لیے انڈیا کے ساتھ فوجی، سفارتی اور خفیہ تعاون بڑھانے کی بھی بات کہی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین امریکی اتحاد کو کمزور کرکے خود مضبوط بننا چاہتا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کا سخت ردعمل

چینی وزارت خارجہ کا اس رپورٹ پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ ’امریکی حکومت کی ایک خفیہ رپورٹ جس میں انڈو پیسیفیک حکمت عملی , تائیوان کا دفاع، چین سے مقابلہ کرنے کے لیے انڈیا کو فروغ دینا اور علاقے میں امریکی اثر و رسوخ اور انڈیا کے ساتھ فوجی تعاون بڑھانے کی بھی بات کہی گئی ہے , آپ کا کیا ردعمل ہے؟‘

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جواب میں کہا ’ امریکی چاہتے ہیں کہ وہ خفیہ دستاویزات کے ذریعے اور اپنی خراب نیت کی وجہ سے چین کو علاقے میں خطرے کے طور پر پیش  پیش کر رہا ہے۔ رجمان نے کہا ’ہمارے ہمسایوں کے ساتھ چینی تعلقات اور حکمت عملی میں امریکہ ہمیں خطرے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ ترجمان نے کہا ’ چین پرامن ترقی اور خود کفیل دفاعی سٹریٹجی کا پابند ہے۔  ہم عالمی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے ہیں. نھوں نے کہا کہ عالمی نظام کا حصہ ہونے کی وجہ سے چین اہمی فائدے، سب کو ساتھ لے کر چلنے، علاقائی امن، استحکام اور خوش حالی کے لیے کام کرنے کا پابند ہے۔ نھوں نے واضح کہا کہ ایشیا پیسیفیک میں چین اور امریکہ کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

انڈیا کے لیے امریکی  پیچیدگیاں؟

چینی ترجمان  نے پورے بیان میں  انڈیا کا نام تک  نہیں لیا۔ چین کے اثرورسوخ کو روکنے کے لیے انڈیا کے ساتھ فوجی تعاون بڑھانے کی چاہے بات کہی گئی ہے۔ تاہم تاریخی طور پر امریکہ اور انڈیا کے تعلقات اتنے آسان بھی نہیں رہے۔ سرد جنگ کے دوران  دونوں ممالک کے تعلقات میں کافی پیچیدگیاں بھی رہی ہیں۔ تب انڈیا نے امریکہ کے کیمپ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ اور  ’غیر جانبدار‘ تھا۔ سرد جنگ کے دوران مریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں زیادہ قربت رہی کیونکہ سرد جنگ کے دوران پاکستان امریکہ کے ساتھ تھا۔ انڈیا کے لیے امریکی کیمپ میں جانا اتنا آسان نہیں ہے۔ پہلے ہی روس نے کواڈ گروپ پر سخت ردعمل دیا تھا۔ روس کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ انڈیا چین کے خلاف مغربی ممالک کا ایک موہرا ہے۔  انڈیا کی روس کے ساتھ تاریخی دوستی رہی ہے۔

لیکن روس اور چین کے تعلقات بھی بہت اچھے ہیں۔ امریک کو چیلینج کرنے کے لیے اس وقت دونوں ملک ساتھ کھڑے ہیں۔ روس نہیں چاہتا کہ  انڈیا چین کے خلاف امریکی کیمپ میں شامل ہو. روسی وزیر خارجہ نے روسی انٹرنیشنل افئیرز کے اجلاس میں کہا تھا روس اور چین  کے مغرب  کے ماتحت ہونے کے امکانات کم ہیں۔ لیکن انڈو پیسیفیک علاقے میں انڈیا ابھی کواڈ جیسی مغربی ممالک کی چین مخالف حکمت عملی کا ایک مہرا بنا ہوا ہے۔‘ امید ہے کہ امریکہ سرد جنگ والی ذہنیت سے باز آئے گا اور دشمنی کی جگہ تعاون کا انتخاب کرے گا۔

انڈیا کے لیے امریکی کیمپ کیوں پیچیدہ؟” ایک تبصرہ

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں