پندرہ سالوں سے پاکستان کے خلاف ہرزہ آرائی کرتے گمراہ کن خبروں کے انڈیا نواز نیٹ ورک کا انکشاف

urdu-Publisher

یورپی یونین میں فیک نیوز کے حوالے سے کام کرنے والے تحقیقی ادارے ‘ای یو ڈس انفو لیب’ کے مطابق ایک مردہ پروفیسر، کئی غیر فعال تنظیمیں اور 750 جعلی مقامی میڈیا آگنائزیشنز کو ایک 15 سال سے جاری وسیع عالمی ڈس انفارمیشن منصوبے اور انڈین مفادات کو فائدہ پہنچانے کے لیے دوبارہ فعال بنایا گیا ہے۔

‘انڈین کرونیکلز’ کے نام سے بدھ کو جاری ہونے والی اس نئی تحقیق کے مطابق اس منصوبے کے تحت جس شخص کی شناخت کو چرا کر دوبارہ زندہ دکھایا گیا ہے اسے درحقیقت انسانی حقوق کے قوانین کے بانیوں میں سے شمار کیا جاتا ہے اور ان کی 2006 میں 92 سال کی عمر میں وفات ہو گئی تھی۔

ای یو ڈس انفو لیب کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ایلیگزانڈر الافیلیپ نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے ڈس انفارمیشن پھیلانے کی غرض سے مختلف سٹیک ہولڈرز پر مشتمل کسی نیٹ ورک میں اتنی ہم آہنگی نہیں دیکھی۔

ایلیگزانڈر الافیلیپ کہتے ہیں کہ ‘ہم نے اس نوعیت کا اتنا بڑا نیٹ ورک اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا۔’ ان کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ سال اس نیٹ ورک کے بارے میں تحقیق سامنے لانے کے باوجود اس نے اپنے کام کو جاری رکھا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتنا مضبوط اور بااثر نیٹ ورک ہے۔

یلجئیم کے دارالحکومت برسلز سے کام کرنے والے ادارے ای یو ڈس انفو لیب نے گذشتہ سال بھی اسی نوعیت کے انکشافات کیے تھے لیکن تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سری واستوا گروپ سے چلائے جانے والے اس نیٹ ورک کی پہنچ کم از کم 116 ممالک اور نو مختلف خطوں تک ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ نیٹ ورک جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق (یو این ایچ سی آر) اور برسلز میں یورپی پارلیمان پر اثر انداز ہونے کے کوشش کرتا ہے۔

اس سلسلے میں یہ نیٹ ورک مشکوک یا جعلی این جی اوز، سات سو سے زائد جعلی مقامی میڈیا ادارے ، فرضی شناخت اختیار کر کے یا دوسروں کی شناخت چرا کر، یا ایک کیس میں تو انسانی حقوق پر کام کرنے والی ایک انتہائی معتبر شخصیت کو زندہ کر کے اپنے مقاصد پورے کرنے پر کام کرتا ہے۔

اس کے علاوہ اس نیٹ ورک کی حکمت عملی کا بڑا اہم جزو ہے کہ میڈیا کے جعلی مقامی اداروں پر شائع ہونے والی خبروں کو انڈیا کی سب سے بڑی نیوز وائر ایجنسی ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) کے ذریعے معتبر ظاہر کرے اور مزید آگے پھیلائے۔

انڈین کرونیکلز کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟

ای یو ڈس انفو لیب نے اس نیٹ ورک کے پیچھے سری واستوا گروپ کو ملوث پایا تھا لیکن وہ اس سے زیادہ معلومات یا حتمی طور پر یہ ثابت نہیں کر سکے کہ آیا کوئی اور بھی اس میں ملوث ہے۔

اپنی تحقیقی رپورٹ میں محققین نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ‘یقینی طور پر یہ بالکل نہیں کہہ سکتے کے انڈین کرونیکلز کے چلانے والوں میں انڈیا کی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے’ لیکن مزید یہ بھی لکھا کہ اس بارے میں مزید تحقیق و تفتیش ہونی چاہیے۔

ایلیگزانڈر الافیلیپ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس نوعیت کا یہ آپریشن ہے اور جتنی وسیع اس کی پہنچ ہے، یہ ‘کافی غور طلب بات ہے اور اتنا بڑا آپریشن آپ محض چند کمپیوٹرز کے ساتھ نہیں چلا سکتے، اس کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہوتی ہے۔’

ڈس انفارمیشن نیٹ ورکس پر گہری نظر رکھنے والے معتبر تجزیہ کار بین نمّو نے بتایا کہ ‘یہ انتہائی مستقل مزاج اور پیچیدہ نوعیت کا آپریشن ہے’ لیکن انھیں بھی واضح نہیں تھا کہ اس کے پیچھے کون ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایسی چند مثالیں ضرور موجود ہیں کہ نجی طور پر کافی بڑے ٹرول آپریشن چلائے گئے ہیں اور ‘صرف کہنا کہ یہ بہت بڑا آپریشن تھا، اس بات کو ثابت نہیں کرتا ہے کہ اس کے پیچھے براہ راست کسی حکومت یا کسی حکومتی ادارے کا ہاتھ ہو۔’

تاہم جب اس حوالے سے انڈین حکومت سے سوالات بھیجے تو وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اس نیٹ ورک کے مقاصد اور عزائم کیا تھے؟

ای یو ڈس انفو لیب کے مطابق اس تحقیق کی سب سے اہم بات اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ دس این جی اوز کا سری واستوا گروپ سے براہ راست تعلق ثابت کر دینا تھی۔

اس کے علاوہ ساڑھے پانچ سو سے زیادہ نیوز ویب سائٹس، متعدد مشکوک این جی اوز اور کئی غیر فعال ادارے اور تھنک ٹینکس کا بھی سری واستوا گروپ سے براہ راست تعلق اس تحقیق میں ثابت کیا گیا جو کہ بین الاقوامی سطح پر انڈین مفادات کو پھیلاتی اور پاکستان کے خلاف ہرزہ آرائی کرتی تھیں۔

تحقیق کے مطابق سری واستوا گروپ کے اس آپریشن کا آغاز سنہ 2005 کے آخر میں ہوا جو کہ یو این ایچ آر سی کے قیام سے چند ماہ قبل تھا۔

محققین کو کمیشن ٹو سٹڈی آرگنائزیشن آف پیس نامی این جی او کا نام بالخصوص کھٹکا جس کا قیام 1930 میں ہوا تھا اور وہ 1975 سے غیر فعال تھی۔

اچنبھے کی بات یہ تھی کہ تحقیق میں نظر آیا کہ اس ادارے کے ایک سابق چئیرمین، پروفیس لوئیس بی سوہن کا نام 2007 میں یو این ایچ آر سی کے ایک سیشن میں شرکت کرنے والوں کی فہرست میں شامل تھا، لیکن پروفیسر سوہن کا 2006 میں انتقال ہو چکا تھا۔

اسی طرح 2011 میں واشنگٹن میں منعقد کی گئی ایک تقریب میں بھی ان کا نام بطور مہمان شامل تھا اور وہ تقریب بھی سری واستوا گروپ سے منسلک ایک ادارے نے ہی منعقد کرائی تھی۔

تحقیق میں اس بات کی مسلسل نشاندہی کی گئی کہ کئی ادارے اور این جی اوز، چند جو اقوام متحدہ سے منظور شدہ ہیں اور بہت سے وہ جو منظور شدہ نہیں ہیں، اور ان کا بظاہر جنوبی ایشیا اور سیاست یا انسانی حقوق سے کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن وہ متعدد بار اقوام متحدہ کے فورم پر پاکستان کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور تحقیق کے مطابق ان میں ادارے میں سے واضح اکثریت سری واستوا گروپ سے منسلک ہے۔

پھر گذشتہ سال مارچ میں ہونے والے ایک سیشن کے دوران یو این سے تسلیم شدہ اور سری واستوا گروپ سے منسلک ایک این جی او گروپ نے اپنے مقررہ وقت پر تقریر کرنے کے لیے یوانا باراکووا نامی تجزیہ کار کو جگہ دی جن کا تعلق یورپین فاؤنڈیشن فار ساؤتھ ایشیا سے تھا جو کہ اقوام متحدہ سے منظور شدہ نہیں ہے۔

اپنی تقریر میں پاکستان کو شدید تنقید بنانے والی یوانا باراکووا سے جب محققین نے اس بابت سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ تنظیمی أمور سے لا علم ہیں اور بعد میں نمبر بلاک کر دیا۔

واضح رہے کہ سنہ 2015 میں حکومت پاکستان کی شکایت پر اقوام متحدہ نے افریقہ سے تعلق رکھنے والی ایسی دو این جی اوز کی منظور شدہ حیثیت ختم کر دی تھی کیونکہ انھوں نے اقوام متحدہ کے فورم پر ‘پاکستان کے خلاف متنازع بیانات دیے تھے’۔

انڈیا کی سب سے بڑی نیوز ایجنسی اے این آئی کا کیا کردار رہا ہے؟

اس تحقیق کا دوسرا سب سے اہم انکشاف انڈیا کی سب سے بڑی نیوز ایجنسی ایشیا نیوز انٹرنیشنل یعنی اے این آئی کے اس نیٹ ورک میں کردار کے بارے میں تھا۔

گذشتہ سال کی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آنے والی 265 سے زیادہ جعلی نیوز ویب سائٹس بند ہو گئی تھیں البتہ کچھ عرصے بعد ای یو کرونیکلز کے نام سے ایک اور نئی نیوز ویب سائٹ قیام میں آئی جس میں یورپی پارلیمان کے ممبران نے پہلے کی طرح پاکستان مخالف مضامین لکھنے شروع کیے۔

لیکن اس بار فرق یہ نظر آیا کہ اے این آئی کے ذریعے ای یو کرونیکلز پر چلنے والی پاکستان مخالف خبروں اور مضامین کو شائع کر کے انڈیا میں دیگر میڈیا کے اداروں تک پہنچایا جا رہا ہے اور ان خبروں کو ہلکا سا رد و بدل کر کے ان کو مزید سخت بنایا گیا۔

ایلیگزانڈر الافیلیپ کہتے ہیں کہ اے این آئی کا کردار اس لیے انتہائی ضروری تھا کہ اس کی مدد سے ‘انفلوئنس آپریشن’ پر سے شک کم کیا گیا اور اے این آئی پر چلنے والی خبروں کے مصدقہ ہونے پر شکوک نہیں اٹھے۔

اے این آئی نے ہر وہ پریس ریلیز ، ویڈیو اور خبر چلائی جو پاکستان کو نشانہ بناتی اور ان پر شائع ہونے والا یہ مواد بغیر کسی سوال کے بڑے پیمانے پر انڈین میڈیا کی زینت بنتا چلا گیا، چاہے وہ ری پبلک ٹی وی ہو یا بزنس سٹینڈرڈ اخبار۔

مثال کے طور پر، ای یو کرونیکلز میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بارے میں شائع ایک مضمون کو مختلف، اور سخت شہ سرخی کے ساتھ اے این آئی پر شائع کیا گیا۔

اسی طرح گذشتہ سال جنیوا میں سری واستوا گروپ سے منسلک تنظیموں نے پاکستان مخالف مظاہرے کیے جس کے بارے میں سری واستوا گروپ سے منسلک فیک میڈیا اداروں خبریں چلائیں اور وہی خبریں اور ویڈیوز اے این آئی کے ذریعے مزید آگے تک پہنچائی گئیں۔

اے این آئی پر شائع ہونے والی خبریں انڈین میڈیا کے علاوہ مزید دو ادارے، بگ نیوز نیٹ ورک اور ورلڈ نیوز نیٹ ورک کے ذریعے 95 سے زیادہ ممالک میں 500 سے زیادہ فیک مقامی نیوز ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتی ہیں۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہوگا کہ معتبر انڈین جریدے دا کاراوان میں اے این آئی اور انڈین حکومت اور انڈین خفیہ اداروں کے درمیان تعلقات پر مضون شائع ہوا تھا جس میں بتایا گیا کہ اے این آئی کے سربراہ سنجیو پرکاش کی اہلیہ سمیتا پرکاش کے والد نے انڈیا کے چار سابق وزا اعظم کے ساتھ بطور حکومتی ترجمان کام کیا اور اس کی مدد سے اے این آئی کی حکومتی حلقوں میں بہت پہنچ ہے۔

محققین نے اس تحقیق کے حوالے سے اے این آئی کو سوالات بھیجنے لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

سری واستوا گروپ چلانے والے کون ہیں؟

ای یو ڈس انفو لیب کی دونوں تحقیقی رپورٹس میں یہ واضح ہے کہ پورے نیٹ ورک کو چلانے میں اہم ترین کردار انکت سری واستوا کا ہے جو اس گروپ کے نائب چئیر مین ہیں۔

وہ اپنے گروپ کے 1991 سے قائم اخبار نیو دہلی ٹائمز کے مدیر ہیں اور اس کے علاوہ ان کے ذاتی ای میل ایڈریس اور ان کی کمپنی کے ای میل سے چار سو سے زیادہ ویب سائٹس کے نام رجسٹر کیے گئے ہیں۔

گذشتہ سال جب محققین نے نئی دہلی کے ایک پرتعیش علاقے میں موجود اس گروپ کے دفتر رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ اس عمارت میں کوئی دفتر نہیں ہے لیکن اس سال محققین کے دوبارہ جانے پر وہاں پر موجود عملے نے داخل ہونے سے منع کیا اور نہ ہی کسی سوال کا جواب دیا۔

پھر بات آتی ہے کہ سری واستوا گروپ سے منسلک ایک پر اسرار ٹیکنالوجی کمپنی ‘اگلایا’ کی، جس کے مالک کا نام بظاہر انکور سری واستوا ہے اور اس کمپنی کا پتہ بھی وہی ہے جو سری واستوا گروپ سے منسلک ہر ادارے کا ہے۔

اگلایا کی ویب سائٹ اس سال فروری سے غیر فعال ہے لیکن چند برس پہلے تک یہ کمپنی دنیا بھر میں اپنی ‘ہیکنگ اور جاسوسی’ کرنے والے آلات اور ٹیکنالوجی اور ‘انفارمیشن وار فئیر سروس’ کی بھرپور تشہیر کر رہی تھی۔

اقوام متحدہ اور یورپی پارلیمان کی اس نیٹ ورک سے لا علمی، یا نظر اندازی؟

اس تحقیق میں پتہ چلتا ہے کہ جنیوا میں سری واستوا گروپ سے منسلک اداروں کی حکمت عملی ہے کہ یو این ایچ سی آر کے دفتر کے باہر مظاہرے کریں، پریس کانفرنس کریں اور مختلف تقریبات میں شرکت کر کے اپنے بیانیے کو پیش کریں۔

جبکہ برسلز میں یورپی پارلیمان میں اس گروپ سے وابستہ اداروں کی کوشش ہوتی ہے کہ ممبر پارلیمان کی قربت حاصل کی جائے اور ان کے ذریعے پاکستان کے خلاف پارلیمان میں آوازیں بلند کی جائیں ، جعلی میڈیا اداروں میں مضامین لکھوائے جائیں اور اسی بیانیے کے فروغ کے لیے بین الاقوامی دورے کرائے جائیں۔

ایسی صورتحال میں یہ سوال اٹھانا ضروری ہوگا کہ کیا اقوام متحدہ اور یورپی پارلیمان کو اپنے فورمز پر چلائے گئے اس آپریشن کے بارے کوئی علم نہیں تھا، اور اگر تھا تو انھوں نے اس حوالے سے کیا اقدامات لیے، خاص طور پر جب پچھلے سال اسی نوعیت کی ایک تحقیق سامنے آ چکی ہے۔

یہ سوال جب یو این ایچ سی آر کے ترجمان رولانڈو گومیز کے سامنے رکھا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ان کا ادارہ این جی اوز اور ان کی حیثیت کا ذمہ دار نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسے قوانین ہیں جن کے تحت این جی اوز پر لازم ہو کہ وہ صرف کسی مخصوص موضوع پر ہی بات کریں ۔

‘یہ این جی اوز کی اپنی مرضی ہے کہ کسی بھی موضوع پر بات کریں اور اپنی باری پر کسی دوسرے ادارے یا شخص کو جگہ دیں، بشرطیہ وہ موضوع اس سیشن کے ایجنڈے سے مطابقت رکھتا ہو اور اس میں اخلاق ملحوظ خاطر رکھا جائے۔’

اسی طرح یورپی پارلیمان کے ادارے برائے خارجہ امور کے ترجمان پیٹر سٹانو نے کہا کہ ان کے ادارے کی مرکزی ذمہ داری اس قسم کے نیٹ ورکس کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے اور وہ انھوں نے پچھلے سال کی تھی جس کے بعد ہی اس نیٹ ورک کے خلاف تحقیق کا راستہ کھلا تھا۔

پیٹر سٹانو کا کہنا تھا کہ ڈس انفارمیشن یعنی گمراہ کن خبریں پھیلانے میں جو بھی ملوث ہوتا ہے وہ ایک آزاد معاشرے کے قوانین کا ہی فائدہ اٹھاتا ہے اور ہمیں اس بارے میں بہت احتیاط کرنی ہوتی ہے کہ کہیں کسی کے آزادی اظہار پر تو قدغن نہیں لگا رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ڈس انفارمیشن اور اسے پھیلانے والوں کی حقیقت کو آشکار کرنا ہی ان کے ادارے کا ایجنڈا ہے اور یہی مرکزی ہتھیار ہے جس کی مدد سے ڈس انفارمیشن کے خلاف آگاہی دی جا سکتی ہے۔’

تاہم دوسری جانب یورپی پارلیمان میں گرین پارٹی کی نمائندگی کرنے والے ڈینئیل فرئیونڈ کہتے ہیں کہ یورپی یونین اس قسم کے آپریشن کے سامنے غیر محفوظ ہے۔

محققین نے بتایا کہ’ای یو کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ خود مختار باڈی بنائی جائے۔ ای یو کے اپنے ادارے اس سلسلے میں ناکام ہو گئے ہیں۔’

یورپی پارلیمان سے منسلک ذرائع نے بھی موجودہ حفاظتی نظام پر سوال اٹھایا اور انھیں ‘محض ایک مذاق’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین اور پارلیمان کی ساری توجہ روس اور چین پر ہوتی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ‘یورپ سے باہر دیگر ممالک سے چلائے جانے والے اس نوعیت کے آپریشنز پر غور کیا جائے۔’

اسی خیال کو آگے بڑھاتے ہوئے ای یو ڈس انفو لیب کے عہدے دار گیری مچاڈو نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ‘بلا شبہ اس بات کا یقین ہے کہ یہ آپریشن انڈین سٹیک ہولڈرز چلا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ تصور کریں کہ ‘اگر یہ نیٹ ورک روس یا چین کا ہوتا تو اس وقت ساری دنیا میں اس کے بارے میں رد عمل سامنے آتا اور بین الاقوامی طور پر اس کی مذمت کی جاتی اور تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا جاتا۔ ‘

اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے عہدے دار کلاؤڈیو فرانکاویلا نے لگی لپٹی بغیر کہا کہ ‘میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ انڈین حکومت نے بہت کامیابی سے خود کو عالمی طور پر اور بالخصوص یورپی یونین سے کسی بھی قسم کی تنقید سے محفوظ رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے حالانکہ زمینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ان سے سوالات ہونے چاہیے۔’

لیکن اس نیٹ ورک کے ساتھ اب کیا ہوگا، اور وہ آیا اس تحقیق کی روشنی میں اپنے طرز عمل کو تبدیل کرے گا یا نہیں، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

انڈین کرونیکلز کے محققین کہتے ہیں کہ ‘یہ تحقیق فیصلہ لینے والوں کے لیے آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہونی چاہیے، تاکہ ایک ایسا نظام ترتیب دیا جائے جو بین الاقوامی طور پر ایسے کام کرنے والوں کو عالمی فورمز کا ناجائز فائدہ اٹھانے سے روکے جائے۔’

‘یہ بہت ممکن ہے کہ وہ ادارے جہاں انڈین کرونیکلز کی پہنچ تھی، ان کی جانب سے کوئی آواز نہ اٹھانے سے اس نیٹ ورک کو شہ ملی اور وقت ملا کہ وہ خود کو زیادہ موثر بنائیں اور ایسا کام کرتے رہیں۔’

ای یو ڈس انفو لیب کے ایلیگزانڈر الافیلیپ نے اس نیٹ ورک کے خلاف اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے اقدامات کی روشنی میں کہا کہ ڈس انفارمیشن پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے۔

‘ہمارے اداروں کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہوگی کہ اگر اگلے سال ہم اسی طرح کی ایک اور رپورٹ شائع کریں جو اسی نیٹ ورک اور اس میں ملوث افراد پر ہو۔ اس کا صرف یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ یورپی اداروں کو بیرونی مداخلت سے کوئی شکایت نہیں ہے۔

Image Source-Google|Image by-wikipedia

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں