جنرل باجوہ سے زیادہ متوازن اور جمہوری آدمی فوج میں نہیں دیکھا

جنرل باجوہ سے زیادہ متوازن اور جمہوری آدمی فوج میں نہیں دیکھا

وزیراعظم عمران خان کے مطابق انھوں نے جنرل باجوہ سے زیادہ متوازن اور جمہوری آدمی فوج میں نہیں دیکھا اور وزارت عظمیٰ کے آغاز میں ہی طے کر لیا تھا کہ جنرل باجوہ ہی آرمی چیف رہیں گے۔

جنرل باجوہ کا شخصی تاثر آرمی چیف کے عہدے سے پہلے بھی کسی سخت گیر جرنیل کا نہیں رہا، وہ ایک گردانے جاتے ہیں۔

تین سال پہلے جب انھیں بطور آرمی چیف نامزدگی کی اطلاع دینے کے لیے وزیراعظم ہاؤس بلایا گیا تو وہاں بھی جنرل باجوہ استقبال کرنے والے جونیئر فوجی و سول افسران سے روایتی تحکمانہ انداز کی بجائے بے تکلف ہو کر گلے ملے۔

ان سے ملاقات کرنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد اس تاثر کی تائید کرتے ہیں۔

سنہ 2017 میں جب عمران خان اپوزیشن کے اہم رہنما تھے، اس وقت بھی انھوں نے کہا کہ آرمی چیف جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ جنرل باجوہ کو قومی ترقیاتی کونسل کا حصہ بھی بنایا گیا جس کا مقصد ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنا ہے۔

موجودہ حکومت کے دور میں کرتار پور راہداری، پلوامہ حملہ کشیدگی، آسیہ بی بی کیس کے بعد احتجاج سے نمٹنا، کرپشن کے خلاف اقدامات، کشمیر سے دفعہ 370 کے خاتمے پر احتجاج جیسے ملکی و بین الاقوامی معاملات میں اداروں کے تعلقات مثالی رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ پر چہ مگوئیوں کا سلسلہ شروع ہوا لیکن ان کی واپسی سے تحریک انصاف نے سکھ کا سانس لیا البتہ نواز شریف کی بیرون ملک روانگی پر رنجیدہ اور دل گرفتہ وفاقی وزیر فیصل واوڈا ایک ٹاک شو میں کہہ بیٹھے کہ ’ہمارے پاس حکومت تو ہے لیکن اقتدار نہیں‘۔

بعد ازاں اس کی وضاحت انھوں نے اس طرح کی کہ ’ہمارے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے اس لیے ہمارے پاس اقتدار نہیں‘۔

عمران حکومت میں جنرل باجوہ نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر شاہ کو تبدیل کر کے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ڈی جی مقرر کیا، یہ تبدیلی اس لیے نظروں میں آئی کیونکہ جنرل عاصم منیر محض آٹھ ماہ ہی آئی ایس آئی کے سربراہ رہے جو کہ سابقہ آئی ایس آئی سربراہان کی مدت میں سب سے کم ہے۔

مریم نواز ’فریسٹریشن‘ کا شکار کیوں ہیں؟

تین وزرا اعظموں کے ساتھ کام کیا

جنرل باجوہ نے اپنی مدت ملازمت میں دو سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی حکومتوں اور تین وزرائے اعظموں کے ساتھ کام کیا تاہم سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کا ساتھ صرف آٹھ ماہ کا تھا۔

نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے ادوار میں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے تعلقات کو مثالی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مبصرین کے خیال میں ڈان لیکس، پاناما جے آئی ٹی، بلوچستان میں صوبائی حکومت کی تبدیلی، کراچی میں ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی کا چند گھنٹوں کا انتخابی اتحاد، فوجی ترجمان کا سنہ 2018 کو تبدیلی کا سال کہنا، عام انتخابات کے نتائج پر حزب اختلاف کی جماعتوں کا اعتراض اور وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی، ایسے واقعات ہیں جن سے محسوس ہوتا ہے کہ جنرل باجوہ کے دور میں منتخب حکومت کا کردار محدودیت کا شکار رہا۔

نا اہل ہونے کے بعد نواز شریف نے ایک انٹرویو میں یہاں تک کہا کہ ایسا ملک نہیں چل سکتا جہاں دو تین متوازی حکومتیں بھی ہوں۔ بے آوازوں کی آواز کہلانے والے میڈیا اور عوامی سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی آزادیوں میں کمی آئی۔ مثبت رپورٹنگ، دوستانہ مشورے، سیلف سنسرشپ کی وجہ سے ذرائع ابلاغ نے اپنی نئی حدود کو پہچانا اور اسی کے مطابق سرگرم عمل ہو گئے۔

قامی میڈیا میں ان تمام موضوعات پر اشاروں میں دبی دبی بات ہوئی لیکن بین الاقوامی میڈیا بلاجھجک ان پر بات کرتا رہا۔

کرپشن اور موروثی سیاست کو ناپسند کرنے والے پاکستانی، جنرل باجوہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ جنرل راحیل شریف کے دور میں ان دونوں ایشوز پر کوئی عملی نتائج نہیں آ سکے تھے۔

مدت ملازمت میں توسیع پر رائےمنقسم

مدت ملازمت میں توسیع کی گزشتہ مثالوں پر عسکری حلقوں میں رائے منقسم رہی ہے لیکن اکثر سبکدوش یا موجودہ افسران کسی توسیع پر سر عام تنقید کی بجائے خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں۔

بعض فوجی مبصرین کا کہنا تھا کہ توسیع کے بعد جنرل باجوہ گذشتہ تین برسوں کے مقابلے میں نسبتاً پرسکون اور بہتر انداز میں کام کر سکیں گے کیونکہ آرمی کی موجودہ لیڈر شپ کے سبھی لیفٹیننٹ جنرلز کا انتخاب خود جنرل باجوہ نے کیا۔

اس کے علاوہ نامزد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا ان کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے ہیں۔