مریم نواز ’فریسٹریشن‘ کا شکار کیوں ہیں؟

مریم نواز ’فریسٹریشن‘ کا شکار کیوں ہیں؟

مریم نواز کے سخت لہجے کی وضاحت دیتے ہوئے معروف تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ’اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں

ایک تو یہ بظاہر نظر آ رہا ہے کہ نواز شریف کی قانونی پوزیشن کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہے۔ قانونی اور سیاسی لحاظ سے ان کی وطن واپسی کے امکانات تو کم ہیں مگر دوسرا یہ کہ مریم نواز صاحبہ کے ٹوئٹس سے وہ فرسٹریشن نظر آتی ہے جس میں وہ بلاواسطہ ججز اور عدلیہ کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہیں۔

مسلم لیگ نون نہ تو قانونی لڑائی جیت رہی ہے اور نہ ہی سیاسی مقابلہ۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم قانونی اور سیاسی طور پر دیکھیں تو نواز شریف صاحب چھ سے آٹھ ہفتوں کے لیے گئے تھے مگر اب چھ، آٹھ مہینے گزر چکے ہیں۔ اس دوران ان کی جو رپورٹس یا علاج کے حوالے سے خبریں آئیں اس سے مسلم لیگ نون کی یا میاں صاحب کی پوزیشن اور کمزور ہو گئی ہے۔‘

مظہر عباس کی رائے میں مسلم لیگ نون میاں نواز شریف کا مقدمہ بھی بھرپور انداز میں لڑ نہیں پا رہی۔

’قانونی پوزیشن میں بھی نظر آ رہا ہے کہ ان (نواز شریف) کے جانے کے بعد مسلم لیگ نون نے وہ قانونی لڑائی نہیں لڑی مثلاً اگر آپ دیکھیں کہ جب پنجاب حکومت نے ان کی ضمانت کے حوالے سے تاریخ آگے بڑھانے کی درخواست مسترد کی تو وہ انھوں نے چیلنج نہیں کی، اور آگے چل کر اسلام آباد میں عدالت نے یہ سوال بھی کیا کہ آپ نے پنجاب حکومت کے اس فیصلے کو چیلنج کیوں نہیں کیا جس پر مسلم لیگ کے لوگوں نے ماننا ہے کہ یہ ان سے غلطی ہوئی۔‘

انھوں نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ میاں نواز شریف کے نہ آنے کا اثر مریم نواز کے مقدمے پر بھی پڑ سکتا ہے۔۔۔ ’تو حکومت کا دباؤ اپنی جگہ ہے اور وہ نظر آتا ہے لیکن سیاسی طور پر بھی مسلم لیگ نون اس کا جوابی مقابلہ نہیں کر پا رہی۔ وہ سڑکوں پر آنے میں بھی ہچکچا رہے ہیں، مریم نواز کی سیاسی سرگرمیاں ٹوئٹر یا ان کے گھر تک محدود ہیں، تو وہ نہ سیاسی لڑائی بھرپور انداز میں لڑ پا رہے ہیں نہ قانونی لڑائی۔‘

انھوں نے کہا کہ مریم نواز کی ان ٹویٹس سے شریف فیملی کی فرسٹریشن بہت واضح نظر آتی ہے۔ ’اب دبانے کا ردعمل تو یہی ہو سکتا ہے کہ یا آپ سڑکوں پر آ کر احتجاج کریں یا ٹویٹس کے ذریعے اپنی فرسٹریشن کا اظہار کریں، ابھی فوری طور پر تو یہی نظر آ رہا ہے۔

کیا مسلم لیگ نون پھر بغاوت پر اتر آئے گی؟

تو کیا اب مسلم لیگ نون سیاسی طور محاذ آرائی یا بغاوت کی سیاست کے لیے تیاری کر رہی ہے؟

اس سوال پر مظہر عباس کا کہنا تھا کہ انقلابی سیاست کے لیے تو سڑکوں پر نکلنا پڑا ہے۔ ’یا تو نواز شریف اعلان کر دیں کہ وہ واپس آ رہے ہیں اور یہ نہ کہیں کہ پارٹی انھیں آنے سے منع کر رہی ہے۔ یا مریم نواز سڑکوں پر نکل آئیں، اس سوچ سے قطع نظر کہ انھیں گرفتار کیا جائے، ان پر مقدمہ چلایا جائے یا انھیں سزا دی جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں مریم نواز کی ٹویٹس میں کسی طرح کا انقلابی پن نظر نہیں آ رہا ہے۔

مظہر عباس کے مطابق دوسری طرف شہباز شریف والا لائحہ عمل ہے، جہاں وہ کوشش کرتے ہیں کہ چیزیں بہت زیادہ تصادم کی طرف نہ جائیں اور معاملات کسی نہ کسی مرحلے پر طے ہو جائیں۔

انھوں نے کہا کہ شہباز شریف کے طرز سیاست کی وجہ سے اتنا تو ہوا کہ نواز شریف علاج کے لیے باہر جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کا ووٹ بینک بلاشبہ موجود ہے، لیکن اگر شریف فیملی کے لیے مشکلات بڑھیں اور ان کی سزائیں برقرار رہیں، اور نواز شریف بیرونِ ملک ہی اچھے وقت کا انتظار کرتے رہے تو ہو سکتا ہے کہ جو سپیس اس وقت مسلم لیگ کے پاس ہے وہ باقی نہ رہ پائے۔

مظہر عباس کے مطابق فی الحال تو انھیں ملسم لیگ نون ایک ابہام کا شکار پارٹی نظر آ رہی ہے جنھیں سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ اپنے خلاف ہونے والے اقدامات کا کس طرح مقابلہ کریں۔

تاہم برجیس طاہر کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کسی قسم کے مخمصے کا شکار نہیں ہے۔

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں