حالیہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک اور نانو پلاسٹک انسانی دماغ تک پہنچ چکے ہیں، جو ایک تشویشناک دریافت ہے۔ یہ ذرات پلاسٹک کی اشیاء (جیسے بوتلیں، پیکجنگ، کپڑے) کے ٹوٹنے سے بنتے ہیں اور اب یہ ماحول کے ہر حصے، بشمول انسانی جسم، میں پائے جا رہے ہیں۔
اہم تحقیق کے نتائج
تحقیق: یونیورسٹی آف نیو میکسیکو کے ماہر زہریات میتھیو کیمپن کی سربراہی میں کی گئی تحقیق سے پتہ چلا کہ انسانی دماغ میں مائیکرو پلاسٹک کی مقدار تقریباًایک پلاسٹک کے چمچ کے وزن (تقریباً 7 گرام) کے برابر ہو سکتی ہے۔
وقت کے ساتھ اضافہ: 2016 سے 2024 تک دماغ میں مائیکرو پلاسٹک کی مقدار میں 50% اضافہ ہوا، جو ماحول میں پلاسٹک کی بڑھتی ہوئی آلودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
دماغ میں زیادہ مقدار: دماغ کے ٹشوز میں مائیکرو پلاسٹک کی مقدار جگر اور گردوں کے مقابلے7 سے 30 گنا زیادہ پائی گئی۔ اوسطاً، 2024 کے نمونوں میں فی گرام دماغی ٹشو میں4,917 مائیکروگرام پلاسٹک تھا، جو تقریباً 4-5 کاغذی کلپس کے وزن کے برابر ہے۔
ڈیمنشیا سے تعلق: ڈیمنشیا (یادداشت کی کمزوری) کے شکار افراد کے دماغوں میں مائیکرو پلاسٹک کی مقدار 3 سے 10 گنا زیادہ تھی۔ تاہم، تحقیق یہ واضح نہیں کر سکی کہ آیا مائیکرو پلاسٹک ڈیمنشیا کا باعث بنتے ہیں یا ڈیمنشیا کی وجہ سے پلاسٹک زیادہ جمع ہوتا ہے۔
مائیکرو پلاسٹک دماغ تک کیسے پہنچتے ہیں؟
خون دماغی رکاوٹ (Blood-Brain Barrier): مائیکرو پلاسٹک اور نانو پلاسٹک (200 نینو میٹر سے کم) اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ وہ خون دماغی رکاوٹ کو پار کر سکتی ہیں۔ محققین کا خیال ہے کہ یہ ذرات چربی (lipids) کے ساتھ مل کر دماغ تک پہنچتے ہیں، کیونکہ پلاسٹک چربی سے محبت کرنے والے (lipophilic) ہوتے ہیں۔
ذرائع:
کھانا: خاص طور پر گوشت اور سمندری غذا، جو ماحول سے مائیکرو پلاسٹک جذب کرتی ہیں۔ زرعی پانی اور کھاد میں پلاسٹک کے ذرات خوراک کی زنجیر میں شامل ہو جاتے ہیں۔
ہوا: ہوا میں موجود مائیکرو پلاسٹک سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں۔
پانی: بوتل بند پانی اور دیگر مشروبات میں مائیکرو پلاسٹک پائے گئے ہیں۔
صحت پر ممکنہ اثرات
نامعلوم خطرات: فی الحال، مائیکرو پلاسٹک کے دماغی صحت پر اثرات پوری طرح واضح نہیں ہیں، لیکن کچھ ممکنہ خطرات شامل ہیں:
دماغی خلل: تیز دھار پلاسٹک کے ذرات خون کی نالیوں میں رکاوٹ یا دماغی خلیات (نیورونز) کے درمیان رابطوں میں خلل ڈال سکتے ہیں۔
سوزش: مائیکرو پلاسٹک سوزش (inflammation) کا باعث بن سکتے ہیں، جو دماغی امراض جیسے ڈیمنشیا یا الزائمر سے منسلک ہو سکتی ہے۔
دوسرے اثرات: دیگر مطالعات میں مائیکرو پلاسٹک کو دل کے امراض، کینسر، اور تولیدی مسائل سے جوڑا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک تحقیق (نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن، 2024) میں پتا چلا کہ شریانوں میں مائیکرو پلاسٹک دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
بچاؤ کے طریقے
پلاسٹک کا استعمال کم کریں:
– شیشے یا سٹینلیس سٹیل کے برتن اور بوتلیں استعمال کریں۔
– کھانا گرم کرنے کے لیے پلاسٹک کے کنٹینرز سے پرہیز کریں، کیونکہ گرمی سے مائیکرو پلاسٹک زیادہ رِلتے ہیں۔
– پلاسٹک کے کٹنگ بورڈز کے بجائے لکڑی یا پتھر کے بورڈ استعمال کریں۔
صحت مند غذا: تازہ، کم پروسیسڈ غذائیں کھائیں، کیونکہ پیک شدہ کھانوں میں مائیکرو پلاسٹک زیادہ ہوتا ہے۔ گوشت اور سمندری غذا کا استعمال محدود کریں، کیونکہ یہ مائیکرو پلاسٹک کا بڑا ذریعہ ہیں۔
ماحولیاتی اقدامات: پلاسٹک کی پیداوار اور فضلے کو کم کرنے کے لیے عالمی معاہدوں (جیسے جنیوا مذاکرات 2025) کی حمایت کریں۔
تحقیق کی حدود
سبب و نتیجہ: تحقیق صرف مائیکرو پلاسٹک اور ڈیمنشیا کے درمیان تعلق دکھاتی ہے، نہ کہ براہ راست سبب۔
چھوٹا نمونہ: مطالعہ میں صرف 47 لاشوں (2016 اور 2024) اور ڈیمنشیا کے 12 مریضوں کے دماغوں کا تجزیہ کیا گیا، جو نتائج کی عمومیت کو محدود کرتا ہے۔
تشخیص کے مسائل: مائیکرو پلاسٹک کی مقدار کو درست پیمائش کرنا مشکل ہے، کیونکہ بعض ذرات بہت چھوٹے ہوتے ہیں یا تجزیاتی عمل میں ضائع ہو سکتے ہیں۔
عالمی ردعمل:
جنیوا مذاکرات (اگست 2025): اقوام متحدہ پلاسٹک کی آلودگی سے نمٹنے کے لیے عالمی معاہدے پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد پلاسٹک کی پیداوار کو محدود کرنا اور زہریلے کیمیکلز پر پابندی لگانا ہے۔ تاہم، تیل پیدا کرنے والے ممالک کی مخالفت اسے مشکل بنا رہی ہے۔
– ماہرین کی رائے: محققین جیسے ڈاکٹر متیھیو کیمپن کہتے ہیں کہ مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی تشویشناک ہے، اور لوگ اس کے بارے میں “ٹھیک ہونے” کا تصور نہیں کرتے۔