ہیپاٹائٹس ڈیلٹا یا ہیپاٹائٹس ڈی

ہیپاٹائٹس ڈیلٹا یا ہیپاٹائٹس ڈی کیا ہے

ہیپاٹائٹس ڈیلٹا، یا ہیپاٹائٹس ڈی، ایک خاموش لیکن انتہائی خطرناک وائرس ہے جو جگر کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ وائرس ہیپاٹائٹس بی کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے لیے جگر کے امراض، جیسے سروسس اور کینسر، کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان، جہاں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے 1 کروڑ سے زائد کیسز ہیں، ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے.

ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کیا ہے؟

ہیپاٹائٹس ڈیلٹا (Hepatitis D) ایک وائرل انفیکشن ہے جو جگر پر حملہ کرتا ہے۔ یہ ایک “نامکمل” وائرس ہے، یعنی یہ تنہا کام نہیں کر سکتا اور ہیپاٹائٹس بی وائرس (HBV) کی موجودگی میں ہی پھیلتا ہے
اس کی وجہ سے یہ دونوں وائرس مل کر جگر کو تیزی سے نقصان پہنچاتے ہیں، جو دیگر ہیپاٹائٹس کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے۔
ہیپاٹائٹس ڈیلٹا دنیا میں تقریباً 1.5 سے 2 کروڑ افراد کو متاثر کرتا ہے، جن میں سے زیادہ تر ایشیا، افریقہ، اور مشرقی یورپ میں ہیں.
یہ جگر کی سوزش (ہیپاٹائٹس)، سروسس، اور جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھاتا ہے، جو 20-30% مریضوں میں 5-10 سال میں ظاہر ہوتا ہے.
پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی کے 90 لاکھ کیسز ہیں، اور ان میں سے 10-20% کو ہیپاٹائٹس ڈیلٹا بھی ہوتا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں صحت کی سہولیات محدود ہیں.
ہیپاٹائٹس ڈی وائرس (HDV) صرف ان افراد کو متاثر کرتا ہے جو پہلے سے ہیپاٹائٹس بی سے متاثر ہوں۔ یہ یا تو ایک ساتھ (co-infection) یا بعد میں (superinfection) ہو سکتا ہے .

منتقلی کے طریقے:
آلودہ خون کی منتقلی، مشترکہ سرنجیں، یا غیر جراثیمی طبی آلات سے
غیر محفوظ جنسی تعلقات سے، خاص طور پر ہیپاٹائٹس بی والے افراد کے ساتھ۔
حاملہ ماں سے بچے کو، اگرچہ یہ کم عام ہے۔
دیہی علاقوں میں غیر تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور ناقص ہسپتالوں کی وجہ سے سرنجوں کا دوبارہ استعمال عام ہے، جو ہیپاٹائٹس ڈی کے پھیلاؤ کا باعث ہے.
علامات:
ابتدائی علامات ہلکی ہوتی ہیں، جیسے تھکاوٹ، پیٹ میں درد، اور یرقان (جلد کا پیلا ہونا)۔
شدید صورتوں میں جگر کی خرابی، سروسس، یا کینسر ہو سکتا ہے، جو جان لیوا ہے.

پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے کیونکہ:

تشخیص کی کمی: دیہی علاقوں میں HDV کی تشخیص کے لیے ٹیسٹنگ کی سہولیات ناکافی ہیں۔ پاکستان میں صرف 20% مریضوں کی درست تشخیص ہوتی ہے.
ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کا علاج مہنگا اور پیچیدہ ہے، جو زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے ناقابل رسائی ہے۔
لوگوں کو ہیپاٹائٹس بی اور ڈی کی منتقلی کے بارے میں معلومات نہیں، جس سے بیماری پھیلتی ہے.

علاج اور بچاؤ
ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کا کوئی مکمل علاج نہیں، لیکن اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے:

انٹرفیرون الفا: یہ انجیکشن وائرس کو کنٹرول کرتا ہے، لیکن صرف 25-30% مریضوں میں موثر ہے اور اس کے مضر اثرات زیادہ ہیں.
نئی دوائیں: بپرویٹائڈ (Bulevirtide) نامی دوا یورپ میں 2020 سے استعمال ہو رہی ہے، لیکن پاکستان میں ابھی نایاب ہے.
جگر کی پیوند کاری: شدید سروسس یا کینسر کی صورت میں جگر کی پیوند کاری کی جاتی ہے، لیکن یہ مہنگی اور محدود ہے.
ہیپاٹائٹس بی کا علاج: چونکہ HDV کو HBV کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے HBV کا علاج (جیسے Tenofovir) HDV کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

بچاؤ:
ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین: چونکہ HDV ہیپاٹائٹس بی کے بغیر پھیل نہیں سکتا، اس لیے HBV ویکسین (جو پاکستان میں نومولود کو دی جاتی ہے) سب سے موثر بچاؤ ہے.
محفوظ خون کی منتقلی: ہسپتالوں میں خون کی اسکریننگ اور جراثیمی آلات کا استعمال لازمی ہے۔
عوامی آگاہی: لوگوں کو غیر محفوظ سرنجوں، غیر ضروری انجیکشنز، اور جنسی تعلقات سے بچنے کی تربیت دی جائے۔
نیشنل ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام نے مفت ویکسینیشن اور اسکریننگ شروع کی ہے، لیکن دیہی علاقوں تک رسائی محدود ہے.

ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ایک خاموش لیکن خطرناک وائرس ہے جو ہیپاٹائٹس بی کے ساتھ مل کر جگر کو تیزی سے تباہ کرتا ہے۔ پاکستان میں، جہاں ہیپاٹائٹس بی کے لاکھوں کیسز ہیں، یہ ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔ تشخیص، علاج، اور عوامی آگاہی کی کمی اسے مزید سنگین بناتی ہے۔ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین، محفوظ طبی طریقے، اور آگاہی اس سے بچاؤ کی کلید ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
اپنا تبصرہ لکھیں