پاکستان میں ذیابیطس کے حوالے سے کیے جانے والے قومی سروے کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 26 فیصد حصہ ذیابیطس کا شکار ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد پاکستان میں آبادی کے 26 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے جو کہ پوری قوم کے لیے خطرناک ہے.
سروے کے مطابق ملک کی آبادی میں 20 سال کی عمر سے زیادہ کے ساڑھے تین کروڑ سے پونے چار کروڑ افراد اِس مرض کا شکار ہیں۔
19 فیصد سے زیادہ لوگوں کو معلوم تھا کہ وہ اِس مرض کا شکار ہیں جبکہ سات فیصد سے زیادہ ایسے تھے جن میں سروے کے دوران کرائے جانے والے ٹیسٹ کے ذریعے اِس مرض کی تشخیص ہوئی۔
14 فیصد پاکستانیوں کو آگے چل کر اپنی زندگیوں میں ذیابیطس کا شکار ہوجانے کا خطرہ ہے۔
پاکستان کی آبادی میں بالغ شہریوں کی تعداد تقریباﹰ 124 ملین بنتی ہے لیکن ان میں سے تقریباﹰ 33 ملین ذیابیطس کی کسی نہ کسی قسم کے مریض ہیں۔
بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن کے ڈیٹا کے مطابق 2021ء میں اس مرض نے 40 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی جان لے لی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے ہاں شوگر کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے پاکستان چین اور بھارت کے بعد تیسرے نمبر پر آتا ہے۔
پاکستان میں 90 فیصد مریض ٹائپ ٹو ذیابیطس کے ہیں۔ ان میں اس بیماری کا تعلق ان کے طرز زندگی، فربہ پن، جسمانی سرگرمیوں اور غذائی عادات سے جڑے عوامل سے ہوتا ہے۔
یہی نہیں بلکہ پاکستان کا ہر دو لاکھ میں سے ایک بچہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہو رہا ہے۔ اور ان مریض بچوں میں سے 90 فیصد بچے ٹائپ 2 ذیابیطس جبکہ 10 فیصد ٹائپ ون ذیابیطس کا شکار ہیں۔
والدین میں سے کسی ایک کو ذیابیطس ہو تو بچوں میں اس مرض کے ہونے کا امکان 30 فیصد ہوتا ہے اگر دونوں والدین اس مرض کا شکار ہوں تو امکان دو گناہ ہو جاتا ہے۔
ٹائپ ون کے لیے اگرچہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ یہ قدرت کی طرف ہے اور آٹو امیون بیماری ہے لیکن ٹائپ 2 ایسی قسم ہے جسے ہم روک سکتے ہیں جو بہت تیزی سے پھیل بھی رہی ہے۔