یہ ایک نہایت اہم اور صحت سے متعلق حساس موضوع ہے۔ نیند کی کمی کو اکثر لوگ معمولی سمجھ لیتے ہیں، لیکن مسلسل رات کی نیند پوری نہ ہونا کئی خطرناک جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
جس طرح سانس لینا اور کھانا پینا جسم کو باقاعدگی سے درکار ہوتا ہے، اسی طرح نیند بھی جسم کے لیے بہت ضروری ہے اور یہ بات تو لگ بھگ سبھی جانتے ہیں کہ اچھی نیند کے لیے رات کے آٹھ گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے۔
ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیند انسانی جسم کی غذا ہے اور یہ انسان کی ذہنی صحت برقرار رکھنے اور اس کی نشوونما کا ایک قدرتی طریقہ ہے۔
نیند صرف ایک آرام دہ وقفہ نہیں بلکہ جسمانی، دماغی اور جذباتی صحت کے لیے انتہائی ضروری عمل ہے۔ جب ہم سوتے ہیں، تو ہمارا جسم اور دماغ “آف” نہیں ہوتے بلکہ پسِ منظر میں بہت سی اہم مرمتیں اور ترتیب سازی جاری ہوتی ہے۔
نیند ہمیں اپنے جسم کے اندر جسمانی عمل کو بحال کرنے، دوبارہ ترتیب دینے اور بہتر توازن قائم کرنے کے قابل بھی بناتی ہے۔
طبی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جو شخص رات کو یا دن بھر میں مناسب نیند نہیں لیتا اس میں دماغی امراض پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
1. دماغی صحت اور یادداشت کی بہتری
نیند کے دوران ہمارا دماغ سارا دن جمع ہونے والی معلومات کو ترتیب دیتا ہے، غیر ضروری باتوں کو حذف کرتا ہے، اور اہم باتوں کو یادداشت میں محفوظ کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اچھی نیند لینے سے سیکھنے اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔
2. جسم کی مرمت اور نشوونما
نیند کے دوران جسم ہارمونز خارج کرتا ہے جو خلیوں کی مرمت، پٹھوں کی بحالی، اور جسم کی عمومی نشوونما میں مدد دیتے ہیں — خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں۔
3. مدافعتی نظام کی مضبوطی
نیند کے دوران ہمارا مدافعتی نظام (Immune System) زیادہ فعال ہو جاتا ہے، جو ہمیں بیماریوں، وائرل حملوں اور سوزش سے محفوظ رکھتا ہے۔
4. ہارمونی توازن برقرار رکھنا
نیند ہماری بھوک، توانائی، موڈ اور دیگر جسمانی افعال کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز (جیسے لیپٹن، گرلین، انسولین) کا توازن برقرار رکھتی ہے۔
نیند کی کمی موٹاپے اور ذیابیطس جیسے مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔
5. دل اور بلڈ پریشر کی حفاظت
اچھی نیند دل کو آرام دیتی ہے، بلڈ پریشر کو متوازن رکھتی ہے، اور دل کے دورے یا فالج کے خطرات کو کم کرتی ہے۔
6. جذباتی توازن اور دماغی سکون
نیند مزاج کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ نیند کی کمی چڑچڑاپن، بے چینی اور ڈپریشن کا سبب بن سکتی ہے۔
اگر کسی شخص کو مناسب نیند نہیں ملتی ہے تو انھیں جو مسائل پیش آ سکتے ہیں:
فکر مند رہنا
ڈر
پریشان ہونا
غلط فیصلہ سازی جیسے خودکشی کے خیالات آنا
ہائی بلڈ پریشر
جو لوگ سونے سے پہلے ای بکس پڑھتے ہیں انھیں سونے میں زیادہ وقت لگتا ہے جس سے میلاٹونن (جسم کی اندرونی گھڑی کو ریگولیٹ کرنے والا ہارمون) کی سطح کم ہوجاتی ہے۔