اکثر اوقات ہم میں سے کئی لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ دن بھر یا خاص طور پر کھانے کے بعد کچھ میٹھا کھانے کو دل چاہتا ہے۔ کبھی چاکلیٹ، کبھی مٹھائی، کبھی کیک یا بسکٹس — آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟کیا یہ صرف عادت ہے یا اس کے پیچھے کوئی سائنسی یا جسمانی وجہ بھی موجود ہے؟
1. خون میں شوگر کی کمی (Low Blood Sugar)
جب ہمارے جسم میں گلوکوز کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو دماغ فوری توانائی کے لیے میٹھے کی طلب پیدا کرتا ہے۔
خاص طور پر خالی پیٹ یا دیر سے کھانے کی صورت میں یہ craving زیادہ ہوتی ہے۔
2. نیند کی کمی اور تھکن
نیند پوری نہ ہونے یا جسمانی تھکن کے باعث دماغ فوری توانائی کے لیے شکر طلب کرتا ہے تاکہ alertness بحال ہو سکے۔
3. ہارمونی تبدیلیاں
خواتین میں حیض (Periods)، حمل یا ہارمونی تبدیلیوں کے دوران شوگر کرونگ بڑھ سکتی ہے۔
اس وقت serotonin اور dopamine جیسے “feel good hormones” کم ہوتے ہیں، اور میٹھا کھانے سے وہ بڑھتے ہیں۔
4. تناؤ یا جذباتی دباؤ (Emotional Eating)
بہت سے لوگ جب پریشان، اداس یا دباؤ میں ہوتے ہیں تو میٹھا کھا کر عارضی خوشی محسوس کرتے ہیں۔
یہ ایک قسم کا “comfort food” بن جاتا ہے۔
5. عادت یا نفسیاتی عادت
بچپن سے اگر کھانے کے بعد یا خاص موقعوں پر میٹھا کھانے کی عادت رہی ہو تو دماغ اسے معمول سمجھ لیتا ہے، اور ہر بار میٹھے کی طلب پیدا کرتا ہے۔
6. شوگر کی لت (Sugar Addiction)
شکر دماغ کے pleasure center کو activate کرتی ہے، بالکل کسی نشہ آور چیز کی طرح۔
بار بار میٹھا کھانے سے دماغ کو شکر کی “reward” کی عادت ہو جاتی ہے۔
شوگر کے انسانی جسم میں داخل ہوتے ہی ہماری آنت میں موجود نیوران متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس عمل کے ردعمل میں آپ کی بھوک بڑھ سکتی ہے یا مزید میٹھا کھانے کی خواہش جاگ سکتی ہے۔
جب خون میں شوگر کی سطح کم ہو جاتی ہے تو آپ کے جسم میں قدرتی طور پر توانائی کے ایک فوری ذریعے کی چاہ پیدا ہونے لگتی ہے اور ایسی صورتحال میں عمومی طور پر آپ کا دل میٹھا یا کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا کھانے کو کر سکتا ہے کیونکہ یہ دونوں اشیا توانائی تک فوری رسائی کا ذریعہ ہوتی ہیں۔
ڈوپامائن اور سیروٹونن میں کمی – خوشی کے ہارمونز کی غیر موجودگی
ڈوپامائن (Dopamine) اور سیروٹونن (Serotonin) دماغ میں موجود وہ اہم کیمیکل ہارمونز ہیں جو خوشی، سکون اور اطمینان کی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ ان کی کمی کی صورت میں انسان تھکن، اداسی، بےچینی یا سستی محسوس کرتا ہے — اور ایسے میں دماغ “فوری خوشی” کے لیے میٹھے یا شکر سے بھرپور چیزوں کی خواہش پیدا کرتا ہے۔
حل کیا ہے؟
متوازن غذا جس میں پروٹین، وٹامن B، اور میگنیشیم شامل ہو
روزانہ کی چہل قدمی یا ورزش
نیند پوری کریں (کم از کم 7-8 گھنٹے)
دھیان (meditation) یا سانس کی مشقیں (breathing exercises)
کم مقدار میں قدرتی شکر جیسے پھل یا کھجور استعمال کریں
اچھی طرح سے متوازن غذا کھانے کی کوشش کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اپنے کھانے میں کافی پروٹین شامل کر رہے ہیں تاکہ آپ کو پیٹ بھرنے اور میٹھے اور کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذا کھانے کی خواہش کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔
فائبر سے بھرپور غذائیں کھائیں۔ ان میں سبزیاں اور سارے اناج آتے ہیں۔ یہ آپ کو مکمل محسوس کرواتے ہیں اور آپ کے خون کی شکر کی سطح کو مستحکم کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر آپ اپنے کھانے میں بروکولی، کوئینووا، بھورے چاول، جئی یا جو، پھلیاں، دال، اور چوکر والے اناج شامل ہیں
کافی نیند لیں۔ کم از کم سات گھنٹے سوئیں اور ہر رات کم سے کم سات سے آٹھ گھنٹے کی معیاری نیند پورا کرنے کی کوشش کریں۔ نیند کی کمی ان ہارمونز میں خلل ڈال سکتی ہے جو بھوک اور کھانے کی خواہش کو کنٹرول کرتے ہیں۔