ٹائپ 1 ذیابیطس ایک آٹو امیون بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام (Immune System) غلطی سے لبلبے (Pancreas) کے وہ خلیات تباہ کر دیتا ہے جو انسولین بناتے ہیں۔
انسولین ایک ہارمون ہے جو خون میں شوگر (گلوکوز) کی مقدار کو کنٹرول کرتا ہے۔ انسولین کے بغیر، شوگر خون میں جمع ہونے لگتی ہے، جو خطرناک ہو سکتا ہے۔
کن لوگوں کو ہوتا ہے؟
زیادہ تر بچوں اور نوجوانوں کو متاثر کرتا ہے.
مگر یہ کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے.
مرد اور خواتین دونوں متاثر ہو سکتے ہیں.
ٹائپ 1 ذیابیطس کی وجوہات
آٹو امیون ردعمل: جسم خود اپنے انسولین بنانے والے بیٹا خلیات کو دشمن سمجھ کر تباہ کر دیتا ہے۔
وراثت: اگر خاندان میں کسی کو ہو، تو خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
وائرل انفیکشن: بعض وائرس حملہ کر کے آٹو امیون ردعمل کو متحرک کر سکتے ہیں۔
ماحولیاتی عوامل: مثلاً کچھ غذائیں یا ویکسین، مگر حتمی ثبوت نہیں۔
علاج
چونکہ ٹائپ 1 میں جسم خود انسولین نہیں بناتا، اس لیے:
روزانہ انسولین انجیکشن دینا لازمی ہوتا ہے
انسولین کی مقدار وقت، کھانے، اور سرگرمی کے مطابق ایڈجسٹ کی جاتی ہے
بلڈ شوگر کی باقاعدہ مانیٹرنگ ضروری ہے
مناسب غذا اور جسمانی سرگرمی ضروری ہے
ڈاکٹروں کے مطابق ذیابیطس ٹائپ 2 کا سب سے زیادہ شکار 10 سے 18 سال کی عمر کے بچے ہیں۔
ٹائپ ون ایک جینیاتی بیماری ہے اور یہ کسی کو بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم ٹائپ 2 خاندان میں پہلے سے کسی مریض کے ہونے کی وجہ سے بھی منتقل ہوتی ہے اور غیر صحت مند رویوں اور کھانے عادت سے بھی ہوسکتی ہے۔
ٹائپ 1 ذیابیطس ایک دائمی حالت ہے۔ یہ کسی بھی عمر میں شروع ہوسکتی ہے۔ٹائپ 1 ذیابیطس کی وجہ نامعلوم ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ کچھ لوگوں کو ایک جین وراثت میں ملتا ہے جو ٹائپ 1 ذیابیطس کا سبب بن سکتا ہے اور یہ کسی وائرل انفیکشن سے متحرک ہو سکتا ہے۔
ٹیسٹ کرنے پر خون اور پیشاب میں گلوکوز کی اعلی سطح ظاہر ہونا
غیر معمولی پیاس
جسم میں پانی کی کمی
بار بار پیشاب آنا چھوٹے بچوں میں بار بار ڈائپر بدلنے کی ضرورت پڑنا
متلی اور قے
پیٹ میں درد
کمزوری اور شدید تھکاوٹ
چڑچڑا پن اور موڈ میں تبدیلی
سنگین ڈائپر ریش جو علاج کے ساتھ بہتر ہوجاتے ہیں
سانس پھولنا
لڑکیوں میں پیشاب کے انفیکشن
شدید بھوک لیکن وزن میں کمی
چھوٹے بچوں میں بھوک کی کمی
دھندلا نظر آنا
ڈاکٹرز کے مطابق ٹائپ 1 ذیابیطس کی علامات دیگر طبی مسائل کی طرح لگ سکتی ہیں۔ ڈاکٹر کے پاس ضرور لے کر جائیں۔