ٹائپ 2 ذیابیطس وہ عام ترین مگر خاموشی سے بڑھنے والی خطرناک قسم ہے، جو اگر وقت پر تشخیص نہ ہو تو کئی سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔
ٹائپ 2 ذیابیطس ایک میٹابولک ڈس آرڈر ہے۔ اس میں بھی جسم کافی انسولین نہیں بنا سکتا یا عام طور پر انسولین استعمال نہیں کر سکتا۔ اس کی بھی کی وجہ نامعلوم ہے لیکن یہ خاندانوں میں آگے منتقل ہو سکتی ہے۔ اس حالت کے لیے اکثر موٹاپا اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جب جسم میں شوگر لیول بڑھنے لگتا ہے تو وزن بھی بڑھنے لگتا ہے لیکن ایک وقت آتا ہے جب پیک آتی ہے اور وزن تیزی سے گرنے لگتا ہے۔ اور اکثر یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگوں کو پتا چلتا ہے کہ انھیں ذیابیطس لاحق ہو گیا ہے۔
ٹائپ 2 ذیابیطس ختم نہیں ہوتی، مگر صحیح طرزِ زندگی سے مکمل کنٹرول میں رہ سکتی ہے!
یہ کیوں ہوتی ہے؟
موٹاپا (بالخصوص پیٹ کی چربی)
ورزش کی کمی
مضر صحت خوراک (زیادہ چینی، چکنائی، پروسیسڈ فوڈ)
خاندانی تاریخ (وراثتی اثر)
عمر (عام طور پر 40 سال کے بعد، مگر اب نوجوانوں میں بھی عام ہے)
ذہنی دباؤ، نیند کی کمی
یہ خطرناک کیوں ہے؟
آغاز میں کوئی واضح علامات نہیں ہوتیں، اس لیے مریض کو پتہ نہیں چلتا۔
وقت کے ساتھ اگر شوگر کنٹرول نہ ہو تو درج ذیل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
ممکنہ پیچیدگیاں:
دل کی بیماریاں / ہارٹ اٹیک
فالج (Stroke)
گردوں کی ناکامی
بینائی کا نقصان (Diabetic Retinopathy)
پاؤں میں زخم، کٹ لگنے پر جلد ٹھیک نہ ہونا (اور بعض اوقات پاؤں کاٹنا پڑتا ہے)
اعصابی کمزوری (Nerve damage).
علامات (جو اکثر نظرانداز کی جاتی ہیں:
بار بار پیاس لگنا
بار بار پیشاب آنا
تھکن اور کمزوری
دھندلا دکھائی دینا
بھوک زیادہ لگنا
وزن کم ہونا (بعض اوقات)
بچاؤ اور کنٹرول کیسے کریں؟
متوازن غذا (کم چینی، زیادہ فائبر)
روزانہ کی جسمانی سرگرمی (ورزش، واک)
وزن کنٹرول میں رکھنا
باقاعدہ بلڈ شوگر ٹیسٹ
ذہنی سکون، نیند پوری کرنا
ڈاکٹر کے مشورے سے دوا یا انسولین استعمال کرنا