ڈاکٹروں کو اسٹرازینکا انجیکشن کے مریضوں میں فالج کی علامات تلاش کرنے کو کہا گیا ہے

فوٹو بشکریہ عرب نیوز

لندن: برطانیہ میں کرونا ویکسین لگنے کے بعد فالج کی شکایت پر تین مریضوں کو اسپتال میں داخل کرایا جن میں سے ایک موت واقع ہوگئی ہے اس کے بعد ڈاکٹروں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ اسٹرازینکا ویکسین حاصل کرنے والے افراد میں فالج کی سب سے عام قسم کی علامات تلاش کریں۔ اس اقدام کے بعد دنیا بھر میں ویکسین کے رول آؤٹ کے لئے وسیع پیمانے پر مضمرات ہو سکتے ہیں۔ 30 سال کی عمر کی دو برطانوی خواتین اور 40 سال کی عمر کے ایک مرد کو ویکسین ملنے کے بعد اسکیمیک اسٹروکس کا سامنا کرنا پڑا، جسے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے ساتھ مل کر تیار کیا گیا تھا۔ فالج کے خطرے کے بارے میں نئی معلومات انجیکشن کی وجہ سے نایاب خون کے لوتھڑے کی پرانی رپورٹس کے بعد سامنے آئی ہیں، جس میں دماغی وینوس تھرمبوسس شامل ہے، جس کی وجہ سے مخصوص رگیں بلاک ہو جاتی ہیں۔

لیکن نئی گائیڈ لائن پہلی بار ہے کہ جب ویکسین کو اسکیمیک اسٹروک سے جوڑا گیا ہے، جو اس وقت ہوتا ہے جب بڑی شریانوں میں خون کے لوتھڑے بنتے ہیں اور دماغ میں خون اور آکسیجن کے بہاؤ کو روکتے ہیں۔ تاہم ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی کالج لندن کے نیشنل اسپتال فار نیورولوجی اینڈ نیوروسرجری کے ماہرین نے کہا ہے کہ ویکسین کی وجہ سے پیدا ہونے والے سنگین حالات “ناقابل یقین حد تک کم” ہیں اور کوویڈ-19 سے متاثر ہونے والے افراد کے ساتھ اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ اسٹرازینکا کی 30 ملین سے زائد خوراکوں میں سے ویکسین سے متاثرہ تھرمبوسس اور تھرمبوسائٹوپینیا (وی آئی ٹی ٹی) کے صرف 309 کیسز سامنے آئے ہیں۔ نتیجتاً، اسٹرازینکا ویکسین کے استعمال کے بعد وی آئی ٹی ٹی خون کے لوتھڑے بننے کے امکانات 100,000 میں سے تقریبا ایک ہیں۔

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں