یروشلم احتجاج: نیتن یاہو نے فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد اسرائیلی کارروائی کا دفاع کیا ہے

فوٹو: بشکریہ بی بی سی

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے یروشلم میں گزشتہ دو راتوں سے جاری جھڑپوں کے بعد فلسطینی مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائی کا دفاع کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہر میں پھیلتے ہوئے تشدد کی وجہ سے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر، “اسرائیل کسی بھی بنیاد پرست کو امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا”۔
ہفتے کے روز امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ سب نے خطرے کا اظہار کیا تھا۔ یہ جھڑپیں ایک ماہ کی کشیدگی کے بعد ہوئی ہیں جس کی بنیادی وجہ فلسطینی خاندانوں کی متوقع بے دخلی ہے۔

تازہ ترین صورت حال اسرائیلی سپریم کورٹ میں 70 سے زائد افراد پر مشتمل خاندانوں کے برسوں سے جاری کیس کی متوقع سماعت کے موقع پر سامنے آئی ہے جس میں مشرقی یروشلم کے ضلع شیخ جراح میں یہودی آبادکار تنظیم کے حق میں بے دخلی کے حکم کے خلاف اپیل کی گئی ہے۔

لیکن اتوار کے روز اسرائیل کے اٹارنی جنرل کی درخواست کے بعد سماعت منسوخ کردی گئی۔اگلے ٣٠ دنوں میں ایک نئی تاریخ مقرر کی جائے گی۔دریں اثنا یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ یروشلم ڈے کا سالانہ پرچم مارچ جس میں روایتی طور پر ہزاروں صیہونی نوجوان مشرقی یروشلم کے پرانے شہر کے مسلم کوارٹر سے گزرتے ہیں، مزید تشدد کا باعث بن سکتا ہے۔ایک سابق اعلیٰ دفاعی عہدیدار آموس گیلاڈ نے آرمی ریڈیو کو خبردار کرتے ہوئے مارچ کو منسوخ یا روٹ تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے: “پاؤڈر کیگ جل رہا ہے اور کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے”۔

“تشدد، تشدد پیدا کرتا ہے”

جھڑپیں دو راتوں تک جاری رہیں اور یروشلم کے مسجد اقصیٰ کمپلیکس کے ارد گرد ہوئیں، جو ایسے واقعات کا مرکز ہے۔ یہ اسلام کے سب سے قابل احترام مقامات میں سے ایک ہے، لیکن یہ یہودیت کا بھی مقدس ترین مقام ہے، جسے ہیکل ماؤنٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ہفتہ کے روز تشدد کا آغاز اس وقت ہوا جب ماہ رمضان کی سب سے مقدس رات لیلتہ القدر میں عبادت کے لیے ہزاروں نمازی مسجد کے احاطے میں جمع ہوئے تھے۔مظاہرین نے پرانے شہر میں دمشق گیٹ کے داخلی دروازے پر پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس نے سٹن گرینیڈ، ربڑ کی گولیوں اور واٹر کینن سے جواب دیا۔فلسطینی طبی عملے کے مطابق تقریبا 100 افراد زخمی ہوئے۔

ایمرجنسی کارکنوں اور پولیس نے بتایا کہ یہ گزشتہ رات ہونے والی جھڑپیں، شہر میں برسوں کے دوران ہونے والی شدید جھڑپوں میں سے ایک تھیں۔ جن میں 200 سے زائد فلسطینی اور کم از کم 17 اسرائیلی پولیس مسجد کے قریب زخمی ہوئے۔متعدد بین الاقوامی اداروں نے مشرقی یروشلم میں ہونے والے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں مشرق وسطیٰ کے مذاکرات کاروں کی کوارٹیٹ یعنی امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ شامل ہیں۔

“ تشدد صرف تشدد پیدا کرتا ہے۔ آئیے ان جھڑپوں کو روکیں”، پوپ فرانسس نے سینٹ پیٹر سکوائر میں منعقدہ اجتماع سے کہا اور تمام اطراف سے مطالبہ کیا کہ وہ یروشلم کی کثیر الثقافتی شناخت کا احترام کریں۔مشرقی یروشلم میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کے محافظ پڑوسی ملک اردن نے مسجد اور اس کے آس پاس اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے اقدامات کو “وحشیانہ” قرار دیا ہے۔مصر، ترکی، تیونس، پاکستان اور قطر کے علاوہ بحرین اور متحدہ عرب امارات جنہوں نے گزشتہ سال اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کیے تھے، نے بھی اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

لیکن 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں مشرقی یروشلم پر اپنے ملک کے قبضے کے موقع پر ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے اسرائیلی پولیس کے ساتھ ساتھ یہودی بستیوں کی تعمیر کے اپنی حکومت کے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم یروشلم میں تعمیر نہ کرنے کے دباؤ کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ یہ دباؤ بہت دیر سے بڑھ رہا ہے۔ اپریل کے وسط میں مسلمانوں کے مقدس ماہ رمضان کے آغاز کے بعد سے مشرقی یروشلم میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور متعدد واقعات نے بدامنی کو ہوا دی ہے۔

رمضان المبارک شروع ہوتے ہی دمشق گیٹ کے باہر سیکورٹی رکاوٹوں کے خلاف احتجاج کرنے والے فلسطینیوں اور پولیس کے درمیان رات کو جھڑپیں شروع ہوئیں جس کی وجہ سے وہ شام کے دوران وہاں جمع نہیں ہو سکے تھے۔اسی علاقے کے قریب انتہائی قوم پرست یہودی انتہا پسندوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز کے ایک سیلاب پر احتجاج کے دوران فلسطینیوں کا غصہ مزید بڑھ گیا جس میں فلسطینیوں کو شہر میں انتہائی آرتھوڈوکس یہودیوں پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور یہودی انتہا پسندوں کی جانب سے فلسطینیوں پر انتقامی حملے کیے گئے تھے۔اسرائیلی عدالتوں کی جانب سے طویل عرصے سے جاری اور حساس قانونی مقدمے میں یہودی آبادکار تنظیم کی زمین کا فیصلہ سنانے کے بعد فلسطینی شیخ جراح میں بے دخلی کا سامنا کرنے والے چار فلسطینی خاندانوں کی وجہ سے پہلے ہی پریشان کن ماحول میں جمع ہو رہے ہیں۔

اسرائیل کی سپریم کورٹ کو ان خاندانوں کی اپیل کی سماعت کرنی تھی جنہیں جائیدادوں سے زبردستی ہٹایا جا رہا تھا، یہ ایک ایسا اندیشہ ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر شور مچا دیا ہے۔اس ضلع میں متوقع فیصلے سے قبل ہی پولیس اور فلسطینیوں کے درمیان رات کو تشدد شروع ہو گیا تھا۔فلسطینی عسکریت پسند گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان خاندانوں کو زبردستی نکالا گیا تو جوابی کارروائی کی جائے گی۔مشرقی یروشلم، اسرائیل اور فلسطینی تنازعہ کی مرکزی وجہ جانی جاتی ہے اور دونوں فریق اس کی ملکیت کا دعوی رکھتے ہیں۔اسرائیل نے 1980 میں مشرقی یروشلم پر موثر طور پر قبضہ کر لیا تھا اور اس اقدام کو عالمی برادری کی بڑی اکثریت نے تسلیم نہیں کیا تھا اور وہ پورے شہر کو اپنا دارالحکومت سمجھتا ہے۔جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی آزاد ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں