ایران معاہدے سے متعلق خدشات کی وجہ سے، سینئر امریکی وفد مشرق وسطیٰ کا رخ کر رہا ہے۔

فوٹو: بشکریہ راؤٹرز

امریکی سفیروں کی ایک ٹیم اس ہفتے اہم اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کے لئے مشرق وسطیٰ کا سفر کر رہی ہے۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بدھ کے روز کہا، صدر جو بائیڈن کی ایران جوہری معاہدے میں دوبارہ شمولیت کی کوشش کے بارے میں خطے میں شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔

عہدیدار نے کہا کہ انٹرایجنسی کا ایک سینئر وفد آنے والے ہفتے کے دوران امریکہ کی قومی سلامتی اور مشرق وسطیٰ کے خطے میں کشیدگی میں کمی کے متعلق متعدد اہم معاملات پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے سفر کرے گا۔

دورے سے واقف ایک ذرائع نے بتایا کہ وفد کی قیادت وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے مشرق وسطیٰ کے پالیسی کوآرڈینیٹر بریٹ میک گورک اور دفتر خارجہ کے کونسلر ڈیرک چولیٹ کریں گے۔

اگرچہ حتمی سفر نامہ واضح نہیں تھا لیکن ٹیم کے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور اردن کے دورے کے عارضی منصوبے تھے۔ بلوم برگ نیوز نے سب سے پہلے اس سفر کی خبر دی تھی۔

توقع ہے کہ حکام متحدہ عرب امارات کو 23 ارب ڈالر کے ملٹری ہارڈ ویئر کی فروخت کے ساتھ انتظامیہ کےآگے بڑھنے کے فیصلے پر بھی تبادلہ خیال کریں گے جس میں 50 F-35  فائٹرز اور 18 ملٹری ڈرون شامل ہیں۔

کچھ امریکی قانون سازوں نےمتحدہ عرب امارات کو یمن جنگ میں ملوث ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو دنیا کی بدترین انسانی تباہی میں سے ایک سمجھی جاتی ہے، اور خدشہ ہے کہ ہتھیاروں کی منتقلی امریکہ کی اس بات کی خلاف ورزی کر سکتی ہے جس کی وہ گارنٹی دیتا ہے کہ اسرائیل خطے میں ملٹری ایڈوانٹیج برقرار رکھے گا۔ 

بائیڈن انتظامیہ اسرائیل اور عرب اتحادیوں کے معاملہ میں ٹرمپ صدارت سے بالکل مختلف ہے۔ ٹرمپ کی ٹیم نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش کے درمیان  تعلقات کومعمول پر لانے کے معاہدوں پر بات چیت کی لیکن بائیڈن کی ٹیم نے اس روش کو برقرار نہیں رکھا ہے۔

خطے میں بہت سے امریکی اتحادی بائیڈن کی جانب سے ایران جوہری معاہدے میں دوبارہ شامل ہونے کی کوشش سے پریشان ہیں، انہیں خدشہ ہے کہ معاہدے کی بحالی سے بالآخر تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا امکان بن سکتا ہے جس سے وہ ایرانی دھمکیوں کا شکار ہو جائیں گے۔

انتظامیہ کے ایک سابق سینئر عہدیدار نے کہا کہ وہ اس معاہدے کے سخت خلاف تھے اور اس میں واپس جانا انہیں خطرے میں ڈال دے گا۔ ایران، برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس نے رواں ہفتے ویانا میں ہونے والے اجلاسوں کا تیسرا دور شروع کیا جس کا مقصد ان اقدامات پر اتفاق کرنا تھا جن کی ضرورت ہو گی اگر اس معاہدے کو بحال کرنا ہے جو کہ 2018 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترک کیا گیا تھا۔

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں