امریکہ افغانستان سے انخلا نہیں کرتا تو نتائج بھگتنے پڑے گے۔ افغان طلبان

غیر ملکی افواج مئی کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی افغانستان میں ہی رہیں گی- نیٹو ذرائع
امریکی صدر کے اس بیان پر کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا مئی میں مشکل ہے پر افغان طلبان نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ ڈیڈ لائن کے مطابق افغانستان سے فوجیوں کا انخلا نہیں کرتا تو اسے نتائج بھگتنے پڑے گے۔ 
اے ایف پی س بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’امریکیوں کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنا قبضہ ختم کرنا ہو گا اور یکم مئی کو افغانستان سے اپنی افواج کو مکمل طور پر نکالنا ہو گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر وہ (امریکہ) کسی وجہ سے ایسا نہیں کرتے تو وہ نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے اور ایسے میں افغانستان کے لوگ اپنا فیصلہ کریں گے۔‘
خیل رہے کہ گذشتہ سال سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس میں ان سے امن اور دوسرے معاملات میں ضمانت کے بدلے افغانستان سے اس سال مئی میں امریکی فوجیوں کے انخلا پر رضامندی ظاہر کی گئی تھی۔
اُس وقت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 12 ہزار تھی جو اب ڈھائی ہزار تک آچکی ہے۔
فوجیوں کی تعداد کے حوالے سے گذشتہ ہفتے نیو یارک ٹائمز نے کہا کہ ’افغانستان میں ایک ہزار کے قریب سپیشل فورسز کے اہلکار ابھی موجود ہیں۔‘
گذشتہ چند ماہ سے افغان حکومت سمیت کئی غیر ملکی حکومتیں اور ایجنسیاں افغان طالبان پر تشدد میں اضافے اور اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے کا الزام عائد کر رہی ہیں۔ جبکہ افغان طالبان ان تمام الزامات سے انکاری ہیں۔
Source :

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں