سوئٹزرلینڈ: برقعے پر پابندی کا ریفرنڈم کامیاب

سوئٹزرلینڈ: برقعے پر پابندی
فوٹو: بشکریہ گوگل independenturdu

سوئٹزرلینڈ میں 51.2 فیصد عوام نے چہرے کو ڈھانپنے پر پابندی کے حق میں ووٹ ڈالا، مسلم تنظیموں نے ان نتائج کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی کے بارے میں ایک ریفرنڈم کامیاب ہو گیا ہے۔  

سوئٹزر لینڈ میں دائیں بازو کی ایک تنظیم کی جانب سے تجویز پر اتوار کو ملک بھر میں اس بارے میں ریفرنڈم ہوا جس میں عوام سے رائے لی گئی کہ آیا چہرہ ڈھانپنے پر پابندی لگانے کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے۔

سرکاری نتائج کے مطابق ریفرنڈم 48.8 فیصد کے مقابلے میں 51.2 فیصد سےکامیاب ہوگیا۔

سوئٹزرلینڈ میں جمہوریت کے نظام کے تحت کی گئی اس تجویز میں براہ راست اسلام کا ذکر نہیں اور اس کا مقصد پرتشدد مظاہرین کو ماسک پہننے سے روکنا بھی ہے، مگر مقامی سیاست دانوں، میڈیا، حقوق کی مہم چلانے والوں نے اسے ’برقع بین‘ کا نام دیا ہے۔

ریفرنڈم پر ووٹنگ سے قبل ریفرنڈم کمیٹی کے چیئرمین اور سوئس پیپلز پارٹی سے پارلیمان کے رکن والٹر وبمین نے کہا: ’اپنا چہرہ دکھانا سوئٹزرلینڈ میں روایت ہے، یہ ہماری بنیادی آزادیوں کی ایک علامت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چہرہ ڈھانپنا ’انتہا پسندی اور سیاسی اسلام کی ایک علامت ہے جو یورپ میں بہت زیادہ عام ہوگئی ہے اور اس کی سوئٹزرلینڈ میں کوئی گنجائش نہیں۔‘

دوسری جانب مسلم تنظیموں نے ان نتائج کی مذامت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کو چیلنج کریں گے۔

سینٹرل کونسل آف مسلمز ان سوئٹزرلینڈ نے کہا: ’آج کے فیصلے نے پرانے زخموں کو کھول دیا اور قانونی عدم مساوات کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ مسلم اقلیت کو یہ پیغام بھیجتا ہے کہ وہ معاشرے سے باہر ہیں۔‘

تنظیم نے کہا کہ وہ اس پابندی کے نافذ ہونے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے اور فنڈ ریزنگ کریں گے تاکہ ان خواتین کی مدد کر سکیں جن پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں