انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اب ڈکٹیٹرشپ کی طرف بڑھ رہی ہے. فریڈم ہاؤس رپورٹ

فوٹو: بشکریہ گوگل verietyinfo

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور میں ’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اب ڈکٹیٹرشپ کی طرف بڑھ رہی ہے۔
جمہوری طرز عمل کے حامی کی حیثیت سے کام کرنے اور چین جیسے ممالک کے آمرانہ اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے بجائے ، مودی اور ان کی پارٹی المناک طور پر خود ہندوستان کو آمریت پسندی کی طرف لے جارہی ہے۔ فریڈم ہاؤس کی رپورٹ

دنیا میں جمہوریت پر نظر رکھنے والے ایک معتبر ادارے ’فریڈم ہاؤس‘ نے اپنی 2021 کی تازہ رپورٹ میں انڈیا کے ’آزاد ملک‘ کے درجے کو گھٹا کر اسے ’قدرے آزاد‘ ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے تاہم بی جے پی نے اسے انڈیا مخالف ایجنڈا قرار دیا ہے۔

جمہوریت پر تحقیق کرنے والا ادارہ ’فریڈم ہاؤس‘ ایک آزاد غیر سرکاری ادارہ ہے لیکن اسے امریکی حکومت کی طرف سے مالی امداد بھی ملتی ہے۔

اس رپورٹ میں دنیا کے 195 ممالک اور 15 خطوں میں جنوری 2020 سے 31 دسمبر 2020 تک ہونے والے واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں مسلمان شہریوں کے خلاف ہجومی تشدد، صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے اور عدالتی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔
فریڈم ہاؤس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈیا جمہوری رویوں کا چیمپیئن بننے کی بجائے نریندر مودی اور اس کی جماعت انڈیا کو مطلق العنانیت یا ڈکٹیٹرشپ کی طرف دھکیل رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں انڈیا نے تمام لوگوں کے لیے برابری کے حقوق اور سب کی شمولیت کے بنیادی اصولوں کو چھوڑ کر ہندو قوم پرستی کے مفادات کو آگے بڑھانے کو ترجیج دی ہے اور اس نے دنیا کے جمہوری رہنما بننے کی خواہش کو ترک کر دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 کی وبا کے دوران انڈیا کی حکومت نے ‘بھونڈے انداز’ میں لاک ڈاؤن کا حکم جاری کیا جس سے لاکھوں غریب ورکرز متاثر ہوئے جو بے سرو سامانی کے عالم میں پیدل لمبے سفر طے کر کے اپنے گاؤں تک پہنچے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندو قوم پرست تحریک نے مسلمانوں پر کووڈ کی وبا پھیلانے کا الزام لگا کر انھیں قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے مسلمانوں کو ہجوموں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

’یہ گورننس کا مسئلہ ہے، 2014 سے قبل انڈیا میں جو حکومت تھی ویسی اب نہیں۔‘

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں