امریکی آرٹیفیشیل اِنٹیلیجنس سے لیس ہتھیاروں کی منظوری گوگل کے سابق سربراہ ایرِک شمِڈ کی رپورٹ

urdu Publisher
فوٹو: بشکریہ گوگل www.forbes.com

مریکی صدر اور کانگریس کے لیے مرتب کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی آرٹیفیشیل اِنٹیلیجنس (اے آئی) یعنی مصنوعی ذہانت کے حامل خودمختار ہتھیاروں کے متعلق عالمی پابندی کے مطالبات کو مسترد کر دیں۔
یہ رپورٹ گوگل کے سابق سربراہ ایرِک شمِڈ نے صدر بائیڈن اور دوسرے قانون سازوں کے لیے مرتب کی ہے .

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ’کسی فیصلے پر پہنچنے کے لیے درکار وقت‘ کافی حد تک گھٹا دے گا اور ایسے عسکری قیصلوں کی ضرورت پڑے گی جو انسان اے آئی کی مدد کے بغیر نہیں لے سکے گا۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ روس اور چین کی جانب سے ایسے کسی معاہدے پاس رکھنے کا امکان نہیں ہے۔

رپورٹ میں دی گئی تجاویز کے نتیجے میں اسلحے کی ایک ’غیر ذمہ دارانہ‘ دوڑ شروع ہو جانے کا خطرہ ہے۔

دنیا میں اے آئی کے سب سے تجربہ کار سائنسدان انھیں خبردار کر رہے ہیں، مگر اس کے باوجود وہ یہ عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا موجب ہوگا۔
750 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کا بیشتر حصہ چین کو 2030 میں منصوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی لیڈر بننے سے روکنے پر مرکوز ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ فوجی حکام کو خبردار کیا جا چکا ہے کہ اگر چین آنے مصنوعی ذہانت والے نظاموں کو تیزی سے اپنا لے تو ’امریکہ آنے والے برسوں میں اپنی فوجی تکنیکی برتری کھو سکتا ہے‘، مثال کے طور پر اے آئی کے ذریعے ایک وقت میں ایک ڈرون کی بجائے وہ دشمن ملک کی بحریہ پر ڈرونز کے جھُنڈ بھیج کر حملہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’لمبے عرصے سے محکمۂ دفاع کی توجہ ہارڈویئر یعنی بحری اور ہوائی جہازوں اور ٹینکوں پر مرکوز تھی، مگر اب وہ سافٹ ویئر کے میدان میں تیزی سے پیش رفت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔ اگر ہماری افواج اے آئی کے جدید نظاموں سے لیس نہ ہوئیں جو دشمن کے نظام ان سے کہیں بہتر ہوں گے تو ہمارے افواج جنگ کی پیچیدگیوں میں مفلوج ہو کر رہ جائیں گی۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی جنگ کے تمام حربی پہلوؤں کو بدل کر رکھ دے گی اور مستقبل میں ایسا لگے گا کہ ایلگوردم ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔

اگرچہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ناقص طریقے سے تیار کردہ اے آئی نظام، جنگ کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے، مگر ’اے آئی سے لیس دشمن کے مقابلے میں بغیر اے آئی کے میدان میں اترنا بربادی ہوگی۔‘

تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے لیے صدر کی واضح منظوری لازمی ہوگی۔

وائٹ ہاؤس کو مشورہ دیا گیا ہے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے معاملے میں وہ ماسکو اور بیجنگ پر دباؤ ڈالے کہ وہ بھی اس سلسلے میں کھل کر اپنے عزم کا اظہار کریں۔

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں