عالمی عدالت انصاف کی فلسطینی علاقوں میں مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات

Urdu Publisher
فوٹو: بشکریہ گوگل cfr

گزشتہ ماہ دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف نے فیصلہ دیا تھا کہ وہ فلسطینی علاقوں پر اپنا فوجداری دائرہِ اختیار بڑھا سکتی ہے۔
فتاؤ بن سودا نے کہا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے دوران 13 جون 2014 سے لے کر اب تک کے اسرائیل کے زیرِ قبضہ غربِ اردن، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی میں ہونے والے واقعات کا احاطہ کیا جائے گا۔

اسرائیل نے بن سودا کی تحقیقات کے فیصلے کو مسترد کردیا جبکہ فلسطینی حکام نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔
عالمی عدالت انصاف (آئی سی سی) کو اختیار ہے کہ وہ ریاستوں اور ان خطوں کی سرزمین پر نسل کُشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف معاہدہِ روم کی کے مطابق کارروائی کرے جنھیں اقوام متحدہ تسلیم کرتا ہے۔ عالمی عدالت کی تشکیل کی بنیاد معاہدہِ روم ہے۔

اسرائیل نے کبھی بھی معاہدہِ روم کی توثیق نہیں کی لیکن اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سنہ 2015 میں فلسطینیوں کے الحاق کی توثیق کر دی تھی۔

بن سودا نے کہا کہ انھوں نے ایک ’صبر آزما تحقیقاتی کام‘ کا آغاز کیا جو تقریباً پانچ سال تک جاری رہا اور انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ اب یہ تفتیش آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور بغیر کسی خوف اور بغیر کسی کی حمایت میں، کی جائے گی۔

انھوں نے کہا ’ہمارے پاس معاہدہِ روم کے تحت پیشہ ورانہ ایمانداری کے ساتھ اپنے قانونی فرائض کو پورا کرنے کے علاوہ اور کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔‘

بن سودا نے یہ کہتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے سنہ 2010 میں غزہ جانے والے (فریڈم فلوٹیلا تین جہازوں سے ایک) ’ماوی مرمارا‘ پر 10 ترک کارکنوں کے اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں قتل کیے جانے کے واقعے کی تحقیقات سے انکار کیا تھا۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: اسرائیلی کارگو جہاز پر ہونے والے دھماکے میں ایران کا ممکنہ ہاتھ

انھوں نے مزید کہا تاہم موجودہ صورتحال میں پیشرفت کی ایک معقول بنیاد موجود ہے اور قابل قبول مواد بھی موجود ہے۔‘

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ تحقیقات کے آغاز کا فیصلہ ’یہودیت مخالفت اور منافقت کا مظہر ہے‘ اور انھوں نے ان تحقیقات کے فیصلے کو واپس کروانے کی کوشش کا وعدہ کیا ہے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ ’آج اسرائیل کی ریاست پر حملہ کیا گیا ہے۔ یہودی عوام کے خلاف نازیوں کے ذریعہ ہونے والے مظالم کی تکرار کو روکنے کے لیے قائم کردہ عدالت اب یہودی عوام کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔‘

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے کہا کہ ’فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی قبضے کے رہنماؤں کی طرف سے کیے جانے والے جرائم۔۔۔ جو ابھی بھی منظم اور بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔۔۔ اس تحقیقات کا تقاضہ کرتے ہیں۔‘

امریکہ کی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ’سنگین جرائم کے شکار اسرائیلی اور فلسطینی متاثرین کو انصاف کے حصول کی جانب ایک قدم بڑھانے کا مو قعہ ملا ہے جس سے انھیں طویل عرصے سے محروم رکھا گیا تھا۔‘

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں