ٹک ٹاک کے مقابلے میں یوٹیوب شارٹس دنیا بھر میں متعارف

Urdu Publisher
فوٹو: بشکریہ گوگل technosports

ٹک ٹاک کی نقل پر مبنی اس فیچر کو یوٹیوب شارٹس کا نام دیا گیا تھا اور اب اس فیچر کو دنیا بھر میں متعارف کرانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

ویسے تو ان مختصر ویڈیوز کو اب بھی دنیا بھر میں لوگ ایپ میں مین فیڈ پر اسکرولنگ کے دوران دیکھ سکتے ہیں، مگر اپ لوڈ کرنا ممکن نہیں۔

یوٹیوب شارٹس میں 15 سیکنڈ یا اس سے کم دورانیے کی ویڈیوز نئے کریٹیر ٹولز سے تیار کرکے اپ لوڈ کی جاسکتی ہیں۔
ان مختصر ویڈیوز میں موسیقی کا اضافہ بھی کردیا جائے گا اور اس کے لیے یوٹیوب میں گانوں کی بہت بڑی لائبریری موجود ہے جو کمپنی کے مطابق وقت کے ساتھ مزید بڑی ہوتی جائے گی۔

اس کے علااوہ ملٹی سیگمنٹ کیمرا بھی صارفین کو متعدد ویڈیو کلپس ایک مختصر ویڈیو میں اکٹھا کرنے مین مدد فراہم کرے گا۔

اس طرح کے ٹولز ٹک ٹاک ویڈیو ریکارڈنگ میں عام استعمال ہوتے ہیں۔

یوٹیوب شارٹس کا مصد ٹک ٹاک کی مقبولیت کو کم کرکے گوگل کی ویڈیو شیئرنگ سائٹ کی بالادستی کو برقرار رکھنا ہے۔

بھارت کے بعد اب یوٹیوب شارٹس کو امریکا میں متعارف کرایا گیا ہے اور بہت جلد عالمی سطح پر بھی اسے پیش کردیا جائے گا۔
یوٹیوب کے مطابق اب بھی روزانہ ان مختصر ویڈیوز کو روزانہ ساڑھے 3 ارب سے زیادہ بار دیکھا جارہا ہے تو یہ حیران کن نہیں ہوگا کہ عالمی سطح پر متعارف ہونے کے بعد اس تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے۔

خیال رہے کہ ٹک ٹاک ایک ارب ماہانہ صارفین کے سنگ میل کے قریب ہے اور سب سے کم وقت میں یہ ہدف طے کرنے والی ایپلیکشن بن سکتی ہے۔

خیال رہے کہ ٹک ٹاک کی مقبولیت کے بعد تمام سوشل میڈیا ایپس میں اس کی مختصر ویڈیوز کے فیچر کا اضافہ کیا جارہا ہے۔

سب سے پہلے انسٹاگرام نے ریلز کے نام سے نیا سیکشن متعارف کرایا، جبکہ اسنیپ چیٹ کی جانب سے بھی ایسا کیا جاچکا ہے۔

دسمبر 2020 میں گوگل کی جانب سے سرچ انجن میں ایک نئے فیچر کی آزمائش شروع کی گی تھی ، جس میں صارفین انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی ویڈیوز ایپس کی بجائے براہ راست گوگل پر ہی دیکھ سکیں گے۔

یعنی ان ویڈیوز پر کلک کرنے پر ایپ کی بجائے اس کا ویب ورژن اوپن ہوگا، کیونکہ گوگل کے خیال میں ایپ میں جانے سے ہوسکتا ہے کہ لوگ اسی میں گم ہوجائیں۔

اس نئے طریقہ کار سے گوگل صارفین کو اپنے سرچ بیجز پر ہی رکھ سکے گا اور وہاں ہی انہیں وائرل ویڈیوز تک رسائی بھی فراہم کرے گا۔

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں