ملک میں روئی کی قیمت 11 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

urdu publisher
فوٹو: بشکریہ dawnnews

رپورٹ کے ملک میں روئی کی اعلیٰ قیمتوں نے ویلیو ایڈڈ انڈسٹری کے زیر استعمال سوت کی قیمت میں بھی اضافہ کیا ہے۔گزشتہ دس سالوں میں کپاس کی پیداوار اور کاشت کے رقبے میں زبردست کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اکستان کاٹن جینرز ایسوسی ایشن نے 15 فروری تک کے لیے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں سال پیداوار 56 لاکھ 17 ہزار گانٹھ پر رہ گئی ہے جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 85 لاکھ 47 ہزار گانٹھ ریکارڈ کی گئی تھی جو 34.29 فیصد کی کمی ظاہر کرتا ہے۔

اس خبر کو بھی پر پڑھیں : امریکا میں نئی حکومت آنے کے بعد امریکی جنگی طیاروں کی شام میں ایرانی ٹھکانوں پر بمباری، 17 جنگجو ہلاک

بروکرز نے کہا کہ جنرز سے کپاس کی آمد اس سال کے لیے پہلے ہی ختم ہو چکی ہے۔

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے کہا کہ ‘اس کا مطلب ہے کہ مقامی مارکیٹ میں روئی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوگا’۔
سوت کے پروڈیوسرز (اسپنرز) کو اپنے کاروبار کے خلاف اس بڑھتی ہوئی صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ ویلیو ایڈڈ انڈسٹری مطالبہ کررہی ہے کہ بھارت سے درآمد کی اجازت دی جائے۔

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں