سائبر کرائم میں 70 فیصد اضافہ، بڑا نشانہ خواتین بن رہی ہیں

urdu publisher
(فائل تصویر:اے ایف پی)

ڈیجیٹل حقوق پر کام کرنے والے ادارے ڈی آر ایف نے اپنی سائبر کرائم ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی شکایات کی سالانہ رپورٹ جاری کردی ہے، جس کے مطابق 2020 میں ہیلپ لائن پر آنے والی شکایات میں 70 فیصد اضافہ ہوا۔
ڈی آر ایف نے اپنی سائبر کرائم ہیلپ لائن پر 2020 میں موصول ہونے والی شکایات کی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ادارے کو کل 3298 شکایات موصول ہوئیں جو2019 کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ ہیں۔

سب سے زیادہ شکایات (کورونا) وائرس کے لاک ڈاؤن کے دنوں میں موصول ہوئیں۔ صرف جولائی کے مہینے میں ہمیں 697 شکایات موصول ہوئیں۔موصول ہونے والی شکایات میں 23 فیصد سوشل میڈیا ہیکنگ کی تھیں، جیسے وٹس ایپ ہیکنگ یا دیگر سماجی رابطوں پر بنے اکاؤنٹس کا ہیک ہوجانا۔

اس خبر کو بھی پر پڑھیں : سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے قتل کی منظوری دی.ممکنہ امریکی رپورٹ

ڈی آر ایف کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سائبر کرائم ہیلپ لائن پر 57 فیصد شکایات کی کالز صوبہ پنجاب سے آئیں جو کہ سب سے زیادہ ہیں، 11 فیصد صوبہ سندھ سے، چار فیصد خیبر پختونخوا، چار فیصد اسلام آباد، دو فیصد بلوچستان جبکہ کشمیر سے ایک فیصد شکایات کی کالز موصول ہوئیں۔

نوٹ: ڈی آر ایف کی سائبر کرائن ہیلپ لائن پر 39393-0800 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ پنجاب کمیشن آن دا سٹیٹس آف ویمن کی ٹول فری ہیلپ لائن پر 1043 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے، جبکہ نیشنل رسپانس سینٹر فار سائبر کرائمز کی ہیلپ لائن پر 9911 پر کال کی جاسکتی ہے۔

سائبر کرائم میں 70 فیصد اضافہ، بڑا نشانہ خواتین بن رہی ہیں” ایک تبصرہ

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں