مہم جو افراد لاپتہ ہونے کی صورت میں سرچ اور ریسکیو مشن کے پروٹوکول کیا ہیں ؟

مہم جو افراد لاپتہ ہونے کی صورت میں سرچ اور ریسکیو مشن کے پروٹوکول کیا ہیں؟
فوٹو: بشکریہ گوگل

پاکستان آنے والے مہم جو افراد لاپتہ ہونے کی صورت میں تلاش اور ریسکیو کے لیے ’عسکری ایوی ایشن‘ نامی کمپنی کے پاس پندرہ ہزار ڈالر کی رقم جمع کرواتے ہیں۔یکن مدد کی ضرورت نہ پڑنے کی صورت میں تین سو ڈالر سروس فیس وصول کر کے باقی رقم واپس کر دی جاتی ہے۔عسکری ایوی ایشن کی ویب سائٹ کے مطابق تلاش اور ریسکیو کے لیے معاوضہ 3200 ڈالر فی گھنٹہ ہے۔

پاکستان میں بین الاقوامی کوہ پیماؤں کو سہولت فراہم کرنے والے ٹور آپریٹرز نے مل کر پانچ پانچ لاکھ روپے عسکری ایوی ایشن کے پاس جمع کروا رکھے ہیں مگر یہ رقم صرف اسی صورت میں استعمال کی جاتی ہے جب کسی کوہ پیما کو حادثے یا جس جگہ وہ پھنسا ہو، وہاں سے ریسکیو کرنا پڑے۔اگر کوہ پیما کی تلاش کا کام بھی کرنا ہو تو اس صورت میں یہ رقم کم پڑ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں ٹور آپریٹر کوہ پیما کی متعلقہ انشورنس کمپنی سے رابطہ کرتے ہیں اور انشورنس کمپنی کی گارنٹی پر عسکری ایوی ایشن تلاش کا کام جاری رکھتی ہے۔

کسی کوہ پیما کے لاپتہ ہونے کی صورت میں بیس کیمپ کا عملہ یا ان کے ساتھی متعلقہ ٹور آپریٹر، اپنی انشورنس کمپنی یا خود انھیں کال کرتے ہیں۔

اس کے بعد متعلقہ انشورنس کمپنی کو حادثے کے مقام کی مناسبت سے ہیلی ریسکیو کے اخراجات کا تخمینہ لگا کر دیا جاتا ہے۔

اگر صرف بیس کیمپ جا کر کسی کوہ پیما کو سکردو لانا ہو تو اس میں اندازاً چار گھنٹے کا وقت لگتا ہے لیکن سرچ مشن بہت مہنگا ہوتا ہے کیونکہ اس کا انحصار اس پر ہے کہ سرچ میں کتنے گھنٹے کا وقت لگا .

ان تین کوہ پیماؤں کی تلاش اور ریسکیو کے لیے ابھی تک جتنے بھی ہیلی کاپٹر بھیجے گئے ہیں وہ مشن پاکستانی حکومت، آرمی اور فائیو سکوارڈن کی مہربانی سے مفت کیے جا رہے ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : محمد علی سد پارہ اور ان کے ساتھیوں کی تلاش کے لیے نئی ٹیکنالوجی پہلی مرتبہ استعمال کی جا رہی ہے

یٹر یا ای میل پر گارنٹی آف پیمنٹ ملنے کی صورت میں ہیڈ آف ریسکیو مشن فار پاٹو فوراً عسکری ایوی ایشن سے رابطہ کر کے انھیں الرٹ کر دیتے ہیں اور یہ سارا عمل ایک گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے اور ہیلی کاپٹر کی دستیابی اور موسم کی مناسبت سے اسے فوراً سرچ اینڈ ریسکیو کے لیے روانہ کر دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد عسکری ایوی ایشن بیس کیمپ سے کوآرڈینیٹ کرنے اور لاپتہ کوہ پیما کو ڈھونڈنے کے لیے ممکنہ روٹس پر ہیلی کاپٹر کو جتنی اونچائی تک لے جا سکیں، لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہیلی کاپٹر سے عموماً انسانی آنکھ اور جدید آلات (جی پی ایس ٹریکر وغیرہ) کی مدد سے کوہ پیماؤں کو اس روٹ پر تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جہاں سے وہ سمٹ کرنے گئے ہوں۔’اگر وہ کہیں گرے ہیں تو اس پر ان کا کوئی نشان ڈھونڈا جاتا ہے اور اگر کوہ پیما کا جی پی ایس چل رہا ہو تو اس کے ذریعے ان کے مقام کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

ہیلی کاپٹر پروازوں کے دوران کوہ پیما اپنے ساتھ ایک ریڈیو ٹرانسمیٹر یونٹ بھی رکھتے ہیں جو پہاڑ پر روانگی سے قبل ایکٹیویٹ کر دیا جاتا ہے تاکہ خدانخواستہ اگر وہ برف کے کسی تودے کے نیچے آ جائیں تو یہ آلہ بیپ کرتا رہتا ہے جسے ریسیور کے ذریعے ٹریک کیا جا سکتا ہے۔عموماً جدید قسم کے ریڈیو ٹرانسمیٹر یونٹ کم از کم 250 گھنٹے (10 دن) تک چلتے ہیں اور شمسی توانائی کی مدد سے انھیں ساتھ ساتھ چارج کیا جاتا ہے۔

لیکن اگر ان آلات کی بیٹری ختم ہو گئی، یا کسی خرابی کے باعث یہ کام نہ کر رہے ہوں یا کوہ پیما کو حادثے کی صورت میں تباہ ہو گئے ہوں یا کوہ پیما اپنے ساتھ کسی حادثے کی صورت میں انھیں چارج نہ کر پایا ہو تو پھر اسے کیسے ڈھونڈا جا سکتا ہے؟

آپ نے دیکھا ہو گا اکثر کوہ پیماؤں نے انتہائی شوخ رنگ کے لباس پہن رکھے ہوتے ہیں، ہیلی کاپٹر پر موجود عملہ انھی رنگوں کی مدد سے بھی ان کی کوئی نشانی تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں