محمد علی سد پارہ اور ان کے ساتھیوں کی تلاش کے لیے نئی ٹیکنالوجی پہلی مرتبہ استعمال کی جا رہی ہے

محمد علی سد پارہ اور ان کے ساتھیوں کی تلاش کے لیے نئی ٹیکنالوجی پہلی مرتبہ استعمال کی جا رہی ہے
فوٹو: بشکریہ گوگل

کے ٹو جہاں بلند چوٹیوں کو تسخیر کرنے والے کوہ پیماؤں کے دلوں میں ’ایڈونچر‘ یا مہم جوئی کے جذبات جگاتی ہے وہیں یہ چوٹی دنیا کی سب سے بلند چوٹی ایورسٹ سے بھی زیادہ خوفناک سمجھی جاتی ہے۔اس چوٹی کو سر کرنے کی جستجو کرنے والے ہر چار میں سے ایک کوہ پیما کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ کے ٹو پر اموات کی شرح 29 فیصد ہے جبکہ اس کے برعکس دنیا کی سب سے بلند چوٹی ایورسٹ پر یہی شرح چار فیصد ہے۔

دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی کوشش کرنے والے پاکستانی کوہ پیما علی سد پارہ سمیت تین کوہ پیماؤں کا رابطہ جمعہ کے روز سے بیس کیمپ، ٹیم اور اہل خانہ سے منقطع ہے. اب تک ان کا سراغ لگانے کی تمام کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔تین دن تک ان کوہ پیماؤں کی تلاش کی کارروائی جاری رہنے کے بعد موسم کی خرابی کی وجہ سے منگل سے تعطل کا شکار ہے۔خراب موسم کے باعث آج بدھ کے روز بھی تلاش کا آپریشن شروع نہیں ہو سکا۔ فیصلہ کیا گیا تھا کہ آٹھ ہزار میٹر اور اس سے اوپر تلاش کرنے کے لیے C-130 استعمال کیا جائے گا مگر دوسرا روز ہے کہ موسمی حالات اس کی اجازت نہیں دے رہے۔اس موسم میں زمینی تلاش بھی ممکن نہیں ہے اور امدادی کارکن بیس کیمپ میں تیار تو ہیں مگر ان کو اس موسم میں آگے جانے سے منع کیا گیا ہے۔

علی سد پارہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا ہوگا؟

جیسا کہ ساجد سد پارہ کے مطابق جب انھیں ڈیتھ زون میں ہیلیوسنیشن شروع ہوئی اور آکسیجن ماسک کا ریگولیٹر خراب ہو جانے کے باعث انھیں واپس لوٹا پڑا، اس وقت دن کے 10 بجے کا وقت تھا اور علی سدپارہ کی ٹیم 8200 میٹر پر یعنی ڈیتھ زون کے سب سے مشکل سیکشن کے انتہائی خطرناک حصے پر موجود تھی۔

پاکستان، آئس لینڈ اور چلی کے ان تینوں لاپتہ کوہ پیماؤں کے خاندانوں نے 72 گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود انھیں تلاش اور ریسکیو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے . ورٹیکل اور ہاریزانٹل کوریج کے چھ ہیلی کاپٹر پروازوں کے باوجود کسی حادثے یا لاشوں کی کوئی علامت نہیں دیکھی گئی ہے۔
علی سد پارہ خاصے ہوشیار کوہ پیما ہیں، ان کے پاس پانی پگھلنے کے لیے ایندھن ہے، ان تینوں نے مل کر یقیناً کوئی پناہ گاہ بنا لی ہو گی۔

اگر انھوں نے کوئی سنو شیلٹر یا غار بنا لیا ہے (جس کا زیادہ امکان ہے) تو اس صورت میں ظاہر ہے وہ نظر نہیں آ سکتے اور اسی لیے آئس لینڈ کی سپیس ایجنسی کے ساتھ شراکت کی گئی ہے کیونکہ ان کی ٹیکنالوجی کے ذریعے دن ہو یا رات، بارش ہو یا ہوا، آپ اوپر سے نیچے تک دیکھ سکتے ہیں۔

آئس لینڈ کے ریڈار سیٹلائٹ امیجنگ کی مستقل نگرانی فراہم کرنے والی آئس آئی ICEYE ٹیکنالوجی کی مدد حاصل کی گئی ہے۔آئس آئی ICEYE سے انھیں ایسی ہائی ریز سیٹلائٹ تصاویر موصول ہوئی ہیں جو آج سے قبل کسی ریسکیو کارروائی میں استعمال نہیں کی گئیں۔ان تصاویر سے وہ علاقے بھی دیکھنے میں مدد ملی ہے جہاں موسم کی خرابی اور سرد ہواؤں کے باعث اب تک ہیلی کاپٹر کی رسائی ممکن نہیں ہو سکی تھی۔

اس ڈیٹا، کوہ پیماؤں کے پاس موجود آلات (گارمن، تھورایا، انمارسٹ ) اور عینی شاہدین کے انٹرویوز کی مدد سے سمٹ کے دوران لاپتہ کوہ پیماؤں کے ممکنہ مقامات کی ایک ٹائم لائن تیار کی گئی ہے تاکہ سرچ اور ریسکیو کی کوششوں کو بہتر انداز میں جاری رکھا جا سکے۔ آپریشنز کو پاکستان انالٹیکا اور کرنل حسن آفتاب کی مدد سے چلایا جا رہا ہے جبکہ ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹرز امتیاز، اکبر، فضل علی اور جلال کی مدد بھی حاصل ہے جو سخت تھکن اور مشکلات کے باوجود تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اردو پبلشر کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں